سری نگر سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ ارم حبیب نے پہلی کشمیری خاتون کمرشل پائلٹ ہونیکا اعزاز حاصل کرلیا

دورانِ تعلیم جہاز اڑانے کا خواب ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ،ْاہلِخانہ چاہتے تھے کہ پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کریں ،ْارم

جمعرات اگست 17:19

سری نگر سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ ارم حبیب نے پہلی کشمیری خاتون کمرشل ..
سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اگست2018ء) سری نگر سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ ارم حبیب نے پہلی کشمیری خاتون کمرشل پائلٹ ہونیکا اعزاز حاصل کرلیا۔۔بھارتی اخبار کے مطابق اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ارم حبیب نے کئی رکاوٹوں کو عبور کیا، انہوں نے جب پائلٹ بننے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ایک کشمیری لڑکی کبھی پائلٹ نہیں بن سکتی جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں اپنے والدین کو راضی کرنے میں 6 سال کا عرصہ لگا کیوں کہ ان کی نظر میں فضائی شعبہ تنازعات میں گھرے ہوئے علاقے کشمیر میں رہنے والی خواتین کیلئے نہیں بنا۔

ارم حبیب نے ڈیہرہ دوں سے جنگلات کے شعبہ میں گریجویشن کیا اور شیر کشمیر یونیورسٹی سے زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویشن کیا، ان کا کہنا تھا کہ دورانِ تعلیم جہاز اڑانے کا خواب ہمیشہ ان کے ساتھ رہا۔

(جاری ہے)

ان کے اہلِخانہ چاہتے تھے کہ وہ پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کریں لیکن انہوں نے پی ایچ ڈی کی تعلیم ڈیڑھ سال تک جاری رکھ اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکا کے فضائی تربیتی اسکول کا رخ کرلیا۔

انہوں نے امریکا کی ریاست میامی سے جہاز اڑانے کی تربیت حاصل کی جس کے بعد 2016 میں وہ کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے بھارت واپس آگئیں۔امریکا میں انہوں نے سخت محنت کے بعد فضائی امتحان پاس کیا اور لائسنس کے حصول کے لیے ضروری 260 گھنٹے کی فلائٹ کا تجربہ حاصل کیا۔اپنے سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں والد کا بھرپور تعاون حاصل رہا جبکہ ان کے دوست احباب انہیں یہ بآاور کرواتے رہے کہ ایک کشمیری لڑکی پائلٹ نہیں بن سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے رشتے داروں کو اب بھی یقین نہیں آتا کہ میں نے یہ شعبہ اختیار کیا اور اب میں اس میں بحیثیت پائلٹ ملازمت بھی کررہی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ تربیت حاصل کرنے کے دوران بھی جب کسی کو معلوم ہوتا کہ میں کشمیر سے تعلق رکھتی ہوں تو لوگ حیرانی کا اظہار کرتے تھے۔