برطانوی حکومت نے پہلی مرتبہ اسحاق ڈار کے خلاف کاروائی کے لیے پاکستانی حکام کو تعاون کا عندیہ دے دیا

اسحاق ڈار کو ڈی پورٹ نہیں کرسکتے لیکن اسحاق ڈار کے خلاف قانونی درخواست دی جاسکتی ہے،برطانوی ہائی کمشنر

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ ستمبر 19:01

برطانوی حکومت نے پہلی مرتبہ اسحاق ڈار کے خلاف کاروائی کے لیے پاکستانی ..
لندن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 ستمبر 2018ء) : برطانوی حکومت نے پہلی مرتبہ اسحاق ڈار کے خلاف کاروائی کے لیے پاکستانی حکام کو تعاون کا عندیہ دے دیا۔برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان احتساب کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ اسحاق ڈار کو ڈی پورٹ نہیں کرسکتا لیکن اسحاق ڈار کے خلاف قانونی درخواست دی جاسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر نے اسحاق ڈار کے خلاف کاروائی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے خلاف قانونی درخواست دی جاسکتی ہے۔برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور پاکستان میں احستاب کے حوالے سے گہرے تعلقات ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نے اسحاق ڈار کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے برطانیہ سے درخواست کی تھی جسے برطانیہ نے مسترد کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

برطانیہ نے پاکستان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ قانون میں گنجائش موجود ہے لیکن دونوں ممالک میں مجرمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔

برطانیہ نے کہا کہ پاکستان باضابطہ طور پر حکومت سے رابطہ کرے۔یاد رہے کہ وزیرخزانہ پاکستان اسحاق ڈار عرصہ دراز سے ملک سے باہر مقیم ہیں اور آج کل برطانیہ میں موجود ہیں۔ اسحاق ڈار کے حوالے سے یہ خبر بھی آئی تھی کہ ممکن ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار برطانیہ میں سیاسی پناہ لے لیں اور وہیں رہائش اختیار کر لیں۔ کیونکہ اسحاق ڈار کے پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد ان کا سیاسی پناہ لینے کا امکان مزید بڑھ گیا ہے اور خود اسحاق ڈار بھی اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔