وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ

خطے میں قیام امن کےاقدامات کوجاری رکھنے پراتفاق، وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب، دوست ممالک سے تعلقات، افغان مصالحتی عمل سمیت پاک افغان سرحدی امورپرغورکیا گیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ ستمبر 21:15

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14ستمبر 2018ء) وفاقی حکومت نے خطے میں قیام امن کے اقدامات کوجاری رکھنے پراتفاق کیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں افغان مصالحتی عمل سمیت پاک افغان سرحدی اموراور وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب بارے بھی غور کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں قومی سلامتی اور خطے میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں عمران خان کے دورہ سعودی عرب بارے بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیرخارجہ کے کل کے دورہ افغانستان سے متعلق حکمت عملی پرمشاورت کی گئی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ افغانسان سے متعلق بریفنگ دی۔ افغان مصالحتی عمل سمیت پاک افغان سرحدی امور بھی زیر غور آئے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگراعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں خطے میں قیام امن کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوجاری رکھنے پراتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں ہمسایہ ممالک سمیت دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں اس سے قبل عمران خان نے آج راولپنڈی تا میانوالی ٹرین کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین کا سفر عام آدمی کا سفر ہے۔جو حکومتیں عوام کا سوچتی ہیں۔

وہ ٹرین کے سفر کوبہتر کرتی ہیں اور ٹرین کے نیٹ ورک کوترقی دیتی ہیں۔انگریزکے زمانے میں 11ہزار کلومیٹر کاریلوے ٹریک بنایا گیا جبکہ ہمارے حکمرانوں نے اب تک صرف 600کلومیٹر تک ٹریک بنایا ہے۔یہاں موٹروے بن جاتے ہیں جہاں غریب آدمی جانہیں سکتا۔اور نہ ہی غریب کی کار چل سکتی ہے۔کیونکہ اس کی کمزور کار کوحادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔ہم نے پرانے انگریزوں کے بنائے اسٹیشن بھی ختم کردیے ہیں۔

یہ پہلی حکومت جس نے نیچے سے لوگوں کواوپر اٹھا دیا ہے۔ترقی ہوتی ہی یہی ہے کہ قوم نیچے سے اوپر جائے۔ مدینہ کی ریاست میں نبی پاک ﷺ نے غریبوں کواوپر اٹھایا۔چین نے بھی اپنے غریبوں کی حالت بدلی ہے۔70ہزار لوگوں کوغربت سے نکالا۔پاکستان امیر امیر تراور غریب غریب ترہوتا جا رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات ہیں۔

سی پیک کے نیچے ایم ایل ون کے نام سے کراچی سے پشاور تک ہم ریلوے ٹریک بنا رہے ہیں۔ اس سے ٹرین کی اسپیڈ بھی بڑھ جائے گی۔چین میں اس وقت تیز ترین ٹرینیں چلتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خوشی ہے شیخ رشید وہ کام کررہے ہیں جوعام آدمی کی سوچ ہے۔ٹرین کا سفر عام آدمی کا سفر ہے۔شیخ رشید نے کم عرصے میں تہلکہ مچا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے کم عرصے میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی۔

ریلوے کی سرگرمیوں میں واضح بہتری نظر آرہی ہے۔شیخ رشید نے 70سے زیادہ عمر کیلئے مفت اور 65سال کے شہریوں کیلئے آدھا ٹکٹ کرکے بڑا اچھا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے میرے لیے بھی فائدہ کردیا ہے کہ مجھے اب ٹرین کے سفر میں صرف آدھا کرایہ دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی زمین قبضہ مافیا سے واپس لیں گے۔100ارب روپے کی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروائی ہے۔

ملک بھر میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کیے جائیں گے۔ہم قرضوں پرجو سود دیتے ہیں وہ 6ارب روپے ہے۔کراچی میں جوریلوے کی زمین ہے اس کوبیچ کرہم قرضے واپس کرسکتے ہیں۔ریلوے کی کھربوں کی زمین خالی پڑی ہوئی ہے لوگوں نے اس پرقبضے کیے ہوئے ہیں۔ریلوے کی زمینوں پربیٹھے غریب لوگوں کونہیں اٹھایا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کوٹاپ کلاس کی یونیورسٹی بنائیں گے۔مری کے گورنر ہاؤس کوہوٹل بنائیں گے۔گورنرہاؤسز کوہوٹل بنا کرحکومت کروڑوں روپے کما سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری بات لکھ لیں، دوسال انتظارکرلیں، گورننس ٹھیک ہوگئی تویہ بے روزگاری اور قرضے اتر جائیں گے۔