افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں،

افغانستان کے تمام متحارب فریق بات چیت کے ذریعے امن عمل کا ماحول پیدا کرنے کیلئے تشدد میں کمی پر اتفاق کریں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب

منگل ستمبر 12:24

افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں،
اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) پاکستان نے افغانستان کے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے امن عمل کا ماحول پیدا کرنے کے لئے تشدد میں کمی پر اتفاق کریں کیونکہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان گذشتہ کئی سال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں امن اہم فریقوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے سیاسی تصفیے سے ہی ممکن ہے۔

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بھی افغانستان میں امن، استحکام اورخوشحالی کے لئے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

نئی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا ہی کیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون افغانستان اور پورے خطے میں امن و سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس اعلان کا بھی خیر مقدم کیا جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طویل ترین امریکی جنگ کے خاتمے کا بہترین طریقہ اس تنازعے کا بات چیت کے ذریعے سیاسی حل ہے۔ پاکستان بھی گذشتہ ایک عشرے سے اسی موقف کا اعادہ کر رہا ہے اور عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا بھی یہی موقف ہے۔پاکستان افغانستان میں امن عمل کے آغاز کے لئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ گذشتہ چار عشروں کے دوران افغانستان سے زیادہ کوئی اور ملک جنگ، افراتفری اور بیرونی مداخلت سے متاثر نہیں ہوا اور افغانستان میں امن کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہی ہوگا، متحارب افغان فریق جب تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے براہ راست بات چیت نہیں کرتے امن عمل تاخیر کا شکار ہوتا رہے گا۔ گذشتہ عید الفطر پر جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبو ت ہے کہ اگر فریقین سنجیدگی سے امن کے قیام کا عزم کریں تو یہ ممکن ہے، امن عمل کے آغاز کے لئے تمام فریقوں کو تشدد کے خاتمے پر اتفاق کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے افغان مسئلے کا پر امن حل افغان حکومت کو داعش ، ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار جیسے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے ضروری ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ منصوبہ پر دہشت گردوں اورمنشیات کے سمگلروں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت روکنے کی غرض سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے افغانستان تادامیچی یاما موتو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور متحارت افغان فریقوں پر بات چیت شروع کرنے پر زور دیا۔