حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سکیورٹی کے نام پر لگائی گئیں رکاوٹیں ہٹانے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب ،سی سی پی او سے 25 ستمبر کو عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی

منگل ستمبر 13:52

حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سکیورٹی کے نام پر لگائی گئیں رکاوٹیں ہٹانے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما و پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے 25 ستمبر کو عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی اکبر قریشی نے حمزہ شہباز شریف کے گھر کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری، ڈی جی ایل ڈی اے ودیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا کہ حمزہ شہباز شریف نے سکیورٹی کے نام پر اپنے گھر کے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں جو آئین کے آرٹیکل 9۔14۔16۔17۔25 اور 4کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، رکاوٹوں کے باعث علاقے کے مکینوں کو پریشانی ہے، سکیورٹی کے نام پر سڑک کو بلاک نہیں کیا جاسکتا ،سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود رکاوٹیں نہیں ہٹائی گئیں لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ ان رکاوٹوں کو ہٹانے کا حکم دیا جائے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار نے عدالت میں رکاوٹوں کی تصاویر بھی پیش کیں۔ عدالت نے حمزہ شہباز کی جوہر ٹائون سے ملحقہ رہائشگاہ کے باہر سے سکیورٹی کے نام پر لگائی گئیں رکاوٹیں ہٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او سے 25 ستمبر کو عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کرلی۔