قومی اسمبلی اجلاس،

اپوزیشن کا الیکشن 2018ء میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی میں مساوی نمائندگی، چیئرمین شپ کا مطالبہ کمیٹی قواعد کے تحت قائم کریں گے جو مکمل بااختیار ہوگی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رولنگ

منگل ستمبر 13:53

قومی اسمبلی اجلاس،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) اپوزیشن کی طرف سے الیکشن 2018ء میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو یکساں نمائندگی دی جائے اور کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے لیا جائے اور اس حوالے سے کمیٹی جس کو بھی طلب کرنا چاہے اس کو مکمل بااختیار ہونا چاہیے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر احسن اقبال نے کہا کہ قرارداد میں یہ بات شامل کی جائے کہ یہ بااختیار ہو اور کسی کو بھی طلب کرنے کی مجاز ہو۔ شازیہ مری نے کہا کہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی یکساں نمائندگی ہونی چاہیے اور کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو دی جائے۔

(جاری ہے)

سید نوید قمر نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ جب تک کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی اور چیئرمین شپ کا فیصلہ نہیں ہوگا آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔

اس معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی ٹیم اب بھی بات چیت میں مصروف ہے۔ ہم تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس میں ووٹنگ کا عمل دخل اہمیت نہیں رکھتا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی دھرنے سے بھی پہلے 2014ء میں قائم کردی تھی جو قانون ساز کمیٹی تھی۔ ہم نے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی میں دونوں اطراف سے یکساں نمائندگی ہونی چاہیے اور کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں اور اس کی کارروائی شفافیت سے آگے بڑھنی چاہیے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خصوصی کمیٹی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری سیاست کا بڑا المیہ یہ ہے کہ 2013ء کے انتخابات پر آج کی حکمران جماعت کو بطور اپوزیشن اعتراض تھا۔ 2018ء کے الیکشن پر آج کی اپوزیشن کو تحفظات ہیں۔

یہ مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے۔ یہ انتخابات کا معاملہ ہے۔ مساوی نمائندگی کی بنیاد پر اگر فیصلہ ہوا تو اس کو کوئی چیلنج نہیں کر سکے گا۔ اگر حکومت کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو مساوی بنیاد پر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کو دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سربراہی اسحاق ڈار کو دی گئی‘ کمیٹی میں نمائندگی پارٹیوں کو عددی تناسب کے تحت دی جاتی ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنائی جانے والی کمیٹی اپوزیشن کے مطالبہ پر بن رہی ہے اس لئے اس میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ تسلیم کیا جائے۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے رولنگ دی کہ وہ کمیٹی قواعد کے تحت قائم کریں گے جو مکمل بااختیار ہوگی۔