نندی پور ریفرنس: بابر اعوان‘راجہ پرویز اشرف کی ضمانت منظور

ضمانت 2 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ہوئی‘سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی حیرت ہے اس کیس میں میرا نام کہاں سے آگیا ‘کیس سے متعلق سپریم کورٹ کی رپورٹ پڑھ لیں تو حقائق سمجھ آئیں گے،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل ستمبر 15:59

نندی پور ریفرنس: بابر اعوان‘راجہ پرویز اشرف کی ضمانت منظور
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) احتساب عدالت نے نندی پور پاور پلانٹ ریفرنس میں نامزد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا ہے ۔منگل کے روز احتساب عدالت میں نندی پور پاور پلانٹ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران ریفرنس میں نامزد سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔مختصر سماعت کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔بعدازاں نندی پور پاور پلانٹ ریفرنس کی سماعت 2 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کاکہنا تھا کہ مجھے خود بڑی حیرت ہے کہ اس کیس میں میرا نام کہاں سے آگیا ،میرے خلاف بنائے گئے کیس کا سر پیر نظر نہیں آرہا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے جج رحمت حسین جعفری نے رپورٹ تیار کی ، رپورٹ پڑھ لیں تو اس کیس کے حقائق سمجھ آئیں گی'۔راجہ پرویز مشرف نے کہا کہ 'ہمارے وکلاء اس کیس کو لڑیں گے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی اٹھائیں گے۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں ماہ 4 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کے خلاف نندی پور پاور پروجیکٹ میں تاخیر پر بطور سابق وزیر قانون و انصاف کرپشن کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب کی جانب سے کرپشن کا ریفرنس دائر ہونے پر بابر اعوان نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔اس ریفرنس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی بطور سابق وزیر پانی و بجلی، بابر اعوان کیساتھ نامزد کیا گیا۔اس کے علاوہ جن افراد کو اس ریفرنس میں نامزد کیا گیا، ان میں سابق سیکریٹری قانون مسعود چشتی، جسٹس (ر) ریاض بطور سیکریٹری قانون، سابق سینئر جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر ریاض، سابق سیکریٹری پانی بجلی شاہد رفیق اور سابق ریسرچ کنسلٹنٹ شمائلہ محمود شامل ہیں۔

نیب کے مطابق 2011 میں سپریم کورٹ کے حکم پر رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں نندی پور کمیشن قائم کیا گیا تھا، جسے منصوبے کی تاخیر کی وجوہات جاننیکی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔نیب حکام نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نندی پور پاور پروجیکٹ کی منظوری دی تھی، منصوبے کی منظوری 329 ملین ڈالر کی لاگت سے دی گئی اور منظوری کے بعد منصوبے کا کنٹریکٹ 28 جنوری 2008 کو کیا گیا، یہ کنٹریکٹ نادرن پاور جنریشن اور ڈانگ فینگ الیکٹرک کارپوریشن چائنا کے درمیان ہوا، لیکن اس منصوبے میں تاخیر سے 27 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

تاہم بابر اعوان نے ریفرنس دائر ہونے پر اپنے ردعمل میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحمت جعفری کمیشن نے نہ ان کا نام لیا، نہ الزام عائد کیا اور نہ ہی انہیں لایا گیا۔ان کے خلاف تمام کارروائی 2 کالی بھیڑوں نے سیاسی مخالفت پر کی، جس کے ثبوت وہ دکھائیں گے۔