غیر ملکیوں کو شہریت دینے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیاجائیگا‘وزیراعظم

فیصلہ انسانی حقوق کی بنیاد پر کیاجائے گا‘جو بچے پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں شہریت ان کا حق ہے ‘یہ لوگ نان شہری ہیں‘مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیج سکتے ‘کراچی میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ کی بڑی وجہ نان شہریت والے لوگ ہیں ‘عمران خان

منگل ستمبر 16:15

غیر ملکیوں کو شہریت دینے کیلئے تمام  سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے غیر ملکیوں کو شہریت دینے پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیاجائے ، شہریت دینے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا تاہم انسانی حقوق کی بنیاد پر اس معاملے پر فیصلہ کیاجائے گا ، وزیراعظم نے اختر مینگل کی طرف سے اٹھائے گئے نقطہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا معاہدہ اختر مینگل سے کررکھا ہے جو بچے پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں ان کی شہریت ان کا حق ہے یہ عالمی سطح پر منظور شدہ طریقہ کار ہے ۔

(جاری ہے)

بنگلہ دیش سے آئے لوگوں کو پچاس سال سے شہریت نہیں ملی اور یہ لوگ نہ واپس جاسکتے ہیں نہ ان لوگوں کوباہر بھیج سکتے ہیں یہ لوگ نان شہری ہیں جبکہ ان لوگوں کو آدھی تنخواہیں ملتی ہیں میں انسانیت کے تقاضے کے تحت بیان دیا ہے کیا یہ انسان نہیں ہیں جو بچے مہاجرین کے بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں ان کا کیا کرینگے مہاجرین کو زبردستی واپس نہیں بھیج سکتے یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اس کا حل تلاش کرنا ہوگا یورپ میں بھی جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کو شہریت ملتی ہے ان کے بارے میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ کی بڑی وجہ نان شہریت والے لوگ ہیں اختر مینگل نے وزیراعظم کی وضاحت کی شدید مخالفت کی اور احتجاج کے طور پر ایوان سے واک آئوٹ بھی کرگئے وزیراعظم نے کہا کہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا حکومت اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گی یہ انسانی معاملہ ہے ہم اس مسئلے کو انسانی حقوق کے تناظر میںدیکھیں گے ایوان کے اندر بلوچستان سے منتخب ممبران کے شدید ہنگامہ بھی کیا اور حکومت کو دھمکی آمیز لہجے میں عدم تعاون کا اعلان بھی کیا مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ وزیراعظم کو شہریت کے بارے میں عالمی قوانین کا علم نہیں ہے ہر ملک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں امریکہ اور برطانیہ تمام بچوں کو شہریت دیتے ہیں ہمیں بھی اس پر غور کرنا ہوگا