حکومت نے غریب اور متوسط طبقہ کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے،

صاحب ثروت افرادکو اپنا حصے کا بوجھ اٹھانا ہوگا، ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا، وزیراعظم‘ کابینہ کے ارکان‘ گورنرز‘ وزراء اعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی، ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے پالیسی اصلاحات لائی جائیں گی، 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی، دو لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ پر ریلیف بھی برقرار رکھا جائے گا، ربیع کی فصل کے لئے کسانوں کو کھاد پر سبسڈی بھی دی جائے گی، ایل پی جی پر ٹیکس کم کیا ہے، پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی (ترمیم) بل 2018ء پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس

منگل ستمبر 16:30

حکومت نے غریب اور متوسط طبقہ کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کا فیصلہ کیا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے غریب اور متوسط طبقہ کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، صاحب ثروت افرادکو اپنا حصے کا بوجھ اٹھانا ہوگا، ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا، وزیراعظم ‘ کابینہ کے ارکان‘ گورنرز ‘ وزراء اعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی، ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے پالیسی اصلاحات لائی جائیں گی۔

وہ منگل کو یہاں قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی (ترمیم) بل 2018ء پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی جبکہ دو لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ پر حاصل ریلیف بھی برقرار رکھا جائے گا، صاحب ثروت افرادکو اپنا حصے کا بوجھ اٹھانا ہوگا تاہم ہر پاکستانی کے لئے ٹیکس کی شرح پچھلے سال سے کم ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جو قوم کو لیڈ کرنا چاہتے ہیں اور انہیںٹیکس بھی دینا ہو گا۔ وزیراعظم ‘ کابینہ کے ارکان‘ گورنرز ‘ وزراء اعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں سے اب ٹیکس لیا جائے گا، ریونیو میں اضافے کے لئے ایسے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن کے ذریعے کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر 92 ارب روپے وصول کئے جائیں گے، ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا، اس کے بغیر مطلوبہ اہداف حاصل نہیں سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بڑا مسئلہ برآمدی شعبے کا ہے، برآمدات اور درآمدات میں فرق کے باعث خسارہ بڑھ رہا ہے، یہاں قرضے واپس کرنے کے لئے نہیں بلکہ سود ادا کرنے کے لئے قرضے لئے جاتے رہے ہیں۔اگر اصلاحات نہ لائی گئیں تو خسارہ مزید بڑھ جائے گا جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی کے لئے کسانوں کو بھی ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، ربیع کی فصل کے لئے کسانوں کو کھاد کی سپلائی کے ساتھ ساتھ اس پر سبسڈی بھی دی جائے گی کیونکہ خریف کی فصل میں انہیں نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی پر ٹیکس کم کیا ہے جس سے غریب عوام کے لئے اس ایندھن کی قیمت کم ہو جائے گی۔اس کے علاوہ پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے پالیسی اصلاحات لائی جائیں گی، اس سلسلے میں ماہرین پر مشتمل ٹیکس ریفارمز کمیشن نے جو سفارشات دی تھیں انہی کی بنیاد پر کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔