وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بڑا ٹیکس ختم کردیا

حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کو 100 ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ

muhammad ali محمد علی منگل ستمبر 18:32

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بڑا ٹیکس ختم کردیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بڑا ٹیکس ختم کردیا، حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کو 100 ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 100 ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے ضمنی مالیاتی بل 2018ء میں کہا گیا ہے کہ سابق حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں مالی بجٹ 2018-19ء میں 350 ارب روپے کا اضافہ کیا تھا، پی ٹی آئی کی حکومت نے اس میں سے ضمنی مالیاتی بل 2018ء کے ذریعے 100 ارب روپے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

 دوسری جانب منگل کے روز پارلیمنٹ میں وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

(جاری ہے)

بجلی کے سیکٹر میں ساڑھے چار سو ارب روپے کا ایک سال میں خسارا ہوا۔اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو خسارہ2 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔بیرونی قرضے 60 ارب سے بڑھ کر 95 ارب تک پہنچ گئے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سےگر رہے ہیں۔

اگر ہم نے فیصلے نہ کیے اور زرمبادلہ ذخائر مزید گر سکتے ہیں۔روپے کی قدر میں کمی سے پٹرول مزید 20 روپے مہنگا ہو سکتا ہے۔گیس کے تمام معاہدے ڈالر میں ہوتے ہیں،کل کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔بجلی کے سیکٹر میں ساڑھے چار سو ارب روپے کا ایک سال میں خسارہ ہوا۔گردشی قرضے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فیصلہ کرنا ہےکیا ہم اسی طریقے سےآگے چلتے رہیں گے یا آگے چلنے کی کوشش کرینگے۔

انہوں نے بتایا کہ 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے جبکہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مدمیں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔مہنگے فونز پر بھی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔1800 سی سی سے اوپر گاڑیوں پر ڈیوٹی 20 فیصد کر دی گئی۔سالانہ 12 لاکھ آمدنی والے افراد سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا۔سالانہ 40 سے 50 لاکھ آمدنی والوں کو 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔صحت کے سلسلے میں فی خاندان 5لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دئیے جائیں گے۔وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بینگ ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا۔انکا کہنا تھا کہ نان فائلر اب پاکستان میں گاڑیاں اور جائیداد خرید سکیں گے۔