پاکستان سے پولیو سمیت دیگر موذی امراض کا خاتمہ اولین ترجیح ہے ، گورنرسندھ

موجودہ حکومت پاکستان کو پولیو کے موذی مرض سے مکمل طور پر فری کرنے کا بھرپور عزم رکھتی ہے،عمران اسماعیل روٹری انٹر نیشنل کلب کی جانب سے صحت عامہ کے لئے 22 ملین ڈالرز کی رقم مختص کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں،وفد سے ملاقات

منگل ستمبر 19:58

پاکستان سے پولیو سمیت دیگر موذی امراض کا خاتمہ اولین ترجیح ہے ، گورنرسندھ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان کو پولیو کے موذی مرض سے مکمل طور پر فری کرنے کا بھرپور عزم رکھتی ہے اس ضمن میں انسداد پولیو کے لئے کام کرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون جاری رکھیں گے ، روٹری انٹر نیشنل کلب کی جانب سے پاکستان میں صحت عامہ کے لئے 22 ملین ڈالرز کی گرانٹ کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہائوس میں پولیو پلس کمیٹی کے سربراہ عزیز میمن کی قیادت میں آنے والے 6 رکنی وفد سے ملاقات میں کیا ۔ وفد میں عرفان قریشی ، رئیس احمد خان ، اویس احمد کوہاری ، سلیم رائو اور اشرف غوری شامل تھے ۔ ملاقات میں صوبہ میں روٹری انٹر نیشنل کی جانب سے جاری صحت عامہ ، انسداد پولیو مہم ، مائوں کی غذائیت کی کمی کے ضمن میں روٹری کلب کے اقدامات اہمیت کے حامل دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

(جاری ہے)

گورنرسندھ نے مزید کہا کہ صحت عامہ کی صورتحال کی بہتری ، پولیو سمیت دیگر موذی امراض کے خاتمہ کے لئے چلائی جانے والی مہم میں بعض علاقوں میں جانا انتہائی دشوار عمل ہوتا ہے اس ضمن میں اداروں کو چاہئے کہ وہ ان علاقوں کی مساجد کے خطیبوں اور تعلیمی اداروں سے رابطہ کرکے مقامی افراد کو بھی اس میں شامل کریں تا کہ چلائی جانے والی مہم کے موئثر نتائج حاصل کئے جا سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کے لئے حکومت ہر ممکن تعاون کے ساتھ ساتھ ان امراض کے خاتمہ سے وابستہ اداروں کو بھرپور معاونت فراہم کرے گی لیکن حکومت کے اقدامات کی کامیابی اسی صورت سامنے آسکتی ہے جب والدین بھی اداروں سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بیماریوں سے بچائو کے مدافعتی کورسز مکمل کرانے میں بھرپور دلچسپی لیں اس ضمن میں موذی امراض سے متعلق آگاہی مہم اہم ثابت ہوسکتی ہے ۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ روٹری کلب کی جانب سے مائوں میں غذائیت کی کمی کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات قابل ستائش ہیں ، صوبہ کے تمام اضلاع میں موئثر اور بھرپور مہم سے متوقع نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں حکومت بھی روٹری کلب سے بھرپور تعاون کرے گی ۔ ملاقات میں پولیو پلس کمیٹی کے سربراہ عزیز میمن نے گورنر سندھ کو بتایا کہ روٹری کلب انٹرنیشنل کے پاکستان بھر میں 58 سرویلنس سینٹر قائم ہیں ،ادارہ1986 ء سے اب تک پاکستان میں صحت عامہ کے مسائل پر 1.8 ارب ڈٖالرز خرچ کرچکا ہے جبکہ حال ہی میں روٹری کلب انٹر نیشنل نے پاکستان کے لئے 22 ملین ڈالرز کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی کاوشوں کے باعث گذشتہ دو برس کے دوران فاٹا میں پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے اسی ملک کے دیگر علاقوں جہاں ماضی میں پولیو کا مرض تشویشناک حد تک بڑھ چکا تھا اب وہاں بھی حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو رہے ہیں امید ہے کہ جلد پاکستان کو عالمی سطح پر پولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا جائے گا ۔