بھارت میں قید ماہی گیروں کی واپسی کیلئے ایگزیکٹو ایکشن کا حکم

بھارتی جیلوں می 3 سو 57 پاکستانی قید ہیں، جن میں ایک سو 8 ماہی گیر اور 2 سو 94 دیگر پاکستانی شہری شامل ماہی گیروں کو بھارت سے واپس لانے کے لیے وفاقی حکومت نے جو یقین دہانی کروائی اس پر پورا اترے ،ْعدالت کے ریمارکس

منگل ستمبر 20:16

بھارت میں قید ماہی گیروں کی واپسی کیلئے ایگزیکٹو ایکشن کا حکم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کو ایگزیکٹو ایکشن لینے کا حکم دیدیا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے اس ضمن میں حکومت کو عملی اقدامات کا حکم دیا۔

دوران سماعت وکیل پاکستان فشر فورم فیصل صدیقی نے بتایا کہ بھارت سے ماہی گیروں کی واپسی ایگزیکٹو ایکشن کے بغیر ممکن نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت کو ایگزیکٹو ایکشن لینے کا حکم دیتے ہیں۔سماعت میں پاکستان اور بھارت میں قید ماہی گیروں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس میں قیدیوں کی واپسی کو ممکن بنانے کیلئے پاکستان بھارت جوڈیشل کمیٹی کی سفارشات بھی شامل تھیں۔

(جاری ہے)

عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق بھارتی جیلوں می 3 سو 57 پاکستانی قید ہیں، جن میں ایک سو 8 ماہی گیر اور 2 سو 94 دیگر پاکستانی شہری شامل ہیں۔دوسری جانب پاکستانی جیلوں میں 4 سو 45 بھارتی شہری قید ہیں جن میں 53 ماہی گیر اور 3 سو 92 دیگر بھارتی ہیں جنہیں مختلف دفعات کے تحت پاکستانی حکام نے گرفتار کیا۔عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کا ڈیٹا جمع کرنے کیلئے ویب سائٹ بنائی جائیگی جس میں قیدیوں کے ذاتی کوائف، ان کی سزا کی مدت اور کیس کی نوعیت درج کی جائے گی۔

وفاقی حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستانی قیدیوں تک کونسل رسائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے ہاتھوں پاکستانی ماہی گیروں کی گرفتاری روکنے اور کشتیوں کو بھارتی پانی میں جانے سے روکنے کے پالیسی مرتب کی جائے گی۔علاوہ ازیں بھارت میں قید پاکستانی ماہی گیروں کو ہونے والے جرمانے کی ادائیگیوں کو بھی یقینی بنایا جائے گا، یہ جرمانے پاکستان کمیونٹی ویلفئیر اینڈ ایجوکیشن فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ حکومت بھارت میں قید پاکستانیوں کی رہائی اور کشتیوں کی ریکوری کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔عدالت نے رپورٹ پر ریمارکس دیے کہ ماہی گیروں کو بھارت سے واپس لانے کے لیے وفاقی حکومت نے جو یقین دہانی کروائی اس پر پورا اترے۔عدالت نے حکم دیاکہ ماہی گیروں کی حوالگی سے متعلق بھارت پاکستان جوڈیشل کمیٹی کی سفارشات پر بھی عملدرآمد کرایا جائے۔

چیف جسٹس نے احکامات جاری کیے کہ حکومت پاکستانی ماہی گیروں کی اور ان کی کشتیوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے،اگر کہیں جرمانہ ادا کرنا ہے تو وہ بھی حکومت ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کی واپسی کا معاملہ عالمی تعلقات کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے ماہی گیروں کی وطن واپسی کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرایا جاسکتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت کو اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹادیا۔