سپریم کورٹ، سابق صدر آصف علی زرداری نے این آر او کیس میں 29 اگست کے عدالتی حکم پر نظرثانی کیلئے درخواست دائرکردی

منگل ستمبر 22:45

سپریم کورٹ، سابق صدر آصف علی زرداری نے این آر او کیس میں 29 اگست کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے این آر او سے متعلق کیس میں 29 اگست کے عدالتی حکم پر نظرثانی کیلئے درخواست دائرکردی ہے۔ منگل کو سابق صدر نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر درخواست میں سابق صدر نے موقف اپنایا ہے کہ دس سال پرانے اثاثوں کی تفصیلات مانگنا آئین و قانون کے خلاف ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیاکسی فرد سے ان کے بچوں کی ایک عشرے کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی جاسکتی ہیں حالانکہ انکم ٹیکس کے قانون کی شق 121 کے تحت صرف 5 سال تک کی تفصیلات طلب کی جاسکتی ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن میں بھی اثاثوں کی ایک سال کی تفصیلات طلب کی جاتی ہیں اور الیکشن قوانین کے تحت امیدوار، اس کی اہلیہ اور زیر کفالت بچوں کی تفصیلات پوچھی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

ا س طرح عدالت کی طرف سے میری مرحوم اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرنا انکم ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور شہید بے نظیر کی قبر کے ٹرائل کے مترادف ہے۔نظر ثانی اپیل میں مزید کہا گیاہے کہ درخواست گزار اس طرح کے مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اور قانون کے تحت ایک الزام میں کسی بھی فرد کا دوبارہ ٹرائل نہیں کیا جاسکتا، اس طرح عدالت کا 29 اگست کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق حکم آئین کی شق 13 سے متصادم ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم نامہ موجودہ قوانین کے منافی ہے جس کی ماضی میںکوئی نظیر موجود نہیں۔ ماضی کے اثاثوں کی تفصیلات مانگنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،عدالتی حکم کے تحت خودکوبے گناہ ثابت کرنے کا بوجھ آصف زرداری پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ درخواست گزار آصف زرداری نیب کے مقدمہ سے بری ہو کر پہلے ہی اپنی بے گناہی ثابت کرچکے ہیں، جواثاثے مانگے جارہے ہیںان سے متعلق پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں اور عدالتی حکم آرٹیکل 4، 175 اور 187 کے خلاف ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمے میںکوئی نئی بات نہیں اوران پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ فیروز شاہ گیلانی کی درخواست کو مسترد کیا جائے۔