عمران خان کی جانب سے کراچی میں صفائی کے حوالے سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی،سعید غنی

بدھ ستمبر 16:32

عمران خان کی جانب سے کراچی میں صفائی کے حوالے سے کوئی وارننگ نہیں دی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت محکمہ بلدیات کے تمام اداروں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی میں صفائی کے حوالے سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی اور نہ ہی وہ قانونی طور پر وارننگ دے سکتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتیں کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماء پہلے اس کے مندرجات کو دیکھیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ترمیم تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے۔

مئیر کراچی کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہونے کا رونا درست نہیں ہے البتہ ان کے اختیارات گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کے پاس ضرور منتقل ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کا سول ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس ملک میں ان کا کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے اور گذشتہ روز عمران خان کا اس بیان کو کراچی سے منسلک کرنا ایک اور پنڈورہ باکس کھولنے کے مترادف ہے۔

پاکستانی بنگالیوں اور بہاریوں کو پاکستان بننے کے وقت یہاں تھے ان کو شہریت ضرور ملنی چاہیے۔ ماسٹر پلان کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرکے اسے دوبارہ کے ڈی اے میں شامل کرنے کے حوالے سے غور کیا جارہا ہے اور جلد ہی اس پر فیصلہ کرلیا جائے گا۔ کے ڈی اے کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے حوالے سے آج مکمل بریفنگ لی ہے اور جلد ہی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرکے مزید منصوبوں کی منظوری دی جائے گی اور ان کے دیگر مسائل کا حل نکالا جائے گا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، واٹر بورڈ اور آباد کے درمیان این او سی اور نئی تعمیرات کے حوالے سے مسائل کو جلد حل کرلیا جائے گا اور اس سلسلے میں آج ان دونوں محکموں اور آباد کے نمائندوں سے مفید بات چیت ہوئی ہے اور انشاء اللہ جلد ہی یہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کے ڈی اے میں اجلاس کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالوں کے جوابات کے دوران کیا۔

اس موقع پر سیکرٹری بلدیات خالد شاہ، ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صبح 9.30 بجے صوبائی وزیر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، ایم ڈی واٹر بورڈ محمد خالد شیخ، آباد کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایس بی سی ایس ، آباد اور واٹر بورڈ کے درمیان مسائل اور بالخصوص عدالتوں کی جانب سے تعمیرات پر ان اداروں کو جواز بنا کر عائد کی گئی پابندی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ چند روز میں ہی اس حوالے سے مکمل قانون سازی کرکے عدالتوں میں تمام معاملات کو رکھا جائے گا اور قانون کے مطابق تمام مسائل کا حل کرکے کراچی میں تعمیرات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لئے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے دفتر میں اپنے وزیر کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلے بار تفصیلی بریفنگ لی۔

اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی اور تمام ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز نے صوبائی وزیر کو مکمل بریفنگ دی اور انہیں درپیش مسائل، فنڈز اور رونیو میں ہونے والی کمی کے اسباب سمیت کے ڈی اے کے تحت کی جانے والی کارروائیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔ دو گھنٹے سے زائد چلنے والے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے بجٹ، اخراجات، ملازمین، زمینوں کے ریکارڈ، آمدنی کے ذرائع اور انہیں درپیش مسائل سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا۔

ڈی جی کے ڈی اے نے اچانک اس بریفنگ کے انعقاد کے باوجود صوبائی وزیر کو ادارے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا کے سوالوں کے جواب میں وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ آج کے ڈی اے میں ان کی پہلی بریفنگ میں انہیں مکمل طور پر آگاہی فراہم کی گئی اور ان کو درپیش مشکلات اور ان کے تمام شعبوں پر تفصیلی بریفنگ کے بعد جلد ہی کے ڈی اے کی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرکے اس میں ان تمام کا حل نکالا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کے ایس بی سی اے میں منتقل ہونے سے جہاں کے ڈی اے کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں کراچی کے عوام کو بھی مسائل کا سامنا ہے ۔ اس سلسلے میں تمام انکوائیری کے بعد ماسٹر پلان کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماسٹر پلان کے ڈی اے کے تحت ہوجائے تو اس سے کئی مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لائیز ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، انجنئیرنگ بیورو، پائپ فیکٹری، پبلک ہائوسنگ اسکیم،پارکس، پارکنگ پلازہ، ریگولر اور کنٹریکٹ ملازمین سمیت تمام امور پر غور کیا گیا ہے اور رکے ہوئے تمام پروجیکٹ کو جلد شروع کرنے، 200 سے زائد بنجر پارکس کو عوام کے لئے تفریح مقام بنانے، 156 قبضہ کئے گئے پارکس کو ریکور کرنے، پارکنگ پلازہ کو کارآمد بنانے سمیت دیگر کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے میں 3200 ریگولر اور 1200 کنٹریکٹ ملازمین ہیں اس سلسلے میں ڈی جی سمیت تمام شعبوں کے ڈائیریکٹرز کو ہدایات سی ہیں کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے ملازمین کی حاضری کا ہر ماہ سرٹیفکٹ دیں گے، جس کے بعد اس ملازم کو تنخواہ جاری کی جائے گی اور اگر کسی گھوسٹ یا غیر حاضر ملازم کی حاضری کی سرٹیفکٹ کا اجراء ہوا تو اس ملازم کے ساتھ ساتھ مذکورہ ڈائریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اداروں میں ملازمین کی وقت اور ریگولر حاضری پر کسی قسم کی کوتاہی کو میں برداشت نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے ایس بی سی اے کے پہلے دن کے دورے پر میں نے واضح کردیا تھا کہ اب کوئی بھی غیر قانونی تعمیرات ہوئی تو اس کے ذمہ دار کو نہیں بخشا جائے گا اور گذشتہ روز ایک شہری کی جانب سے مجھے شواہد فراہم کئے گئے، جس میں مذکورہ افسر نے 4 لاکھ روپے طلب کئے اور 2 لاکھ وصول بھی کرلئے میں نے اس پر فوری کارروائی کرکے مذکورہ افسر کو نہ صرف معطل کردیا ہے بلکہ اس کے خلاف کارروائی کے احکامات دے دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہری اور میڈیا میری مدد کرے اور زشواہد فراہم کرے تو تمام معاشرے اور شہر کے حالات کو بہتر بنا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مکانات اور گھروں کی خریداری سے قبل اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنی جمع پونجی جہاں لگا رہے ہیں وہ قانونی ہے یا نہیں ۔ مئیر کراچی کی جانب سے پیپلز پارٹی پر الزامات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی اپنا مقام رکھتے ہیں اور ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بھی ہے۔

اس طرح بغیر شواہد الزام تراشیوں کی بجائے وہ شواہد کو عدالتوں اور نیب میں لے جائیں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا مظاہرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ مئیر کا اختیارات کا رونا اور اس کا الزام سندھ حکومت کو ٹھرانا بھی غلط ہے کیونکہ ان کے اختیارات کم کرکے گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کو منتقل ہوئے ہیں سندھ حکومت کے پاس نہیں۔ قبرستانوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی منظوری سے چار اضلاع میں قبرستانوں کے لئے زمین مختص کردی گئی ہے اور اس سلسلے میں اب ان قبرستانوں کو جدید خطوط پر بنانے کے لئے کام کیا جارہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مسائل بہت ہیں لیکن میں ترجیعی بنیادوں پر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہا ہوں اس میں مجھے عوام اور میڈیا دونوں کی مدد درکار ہوگی۔ عمران خان کی جانب سے کراچی میں صفائی ستھرائی پر وارننگ دینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نہ کوئی وارننگ دی ہے اور نہ وہ دے سکتے ہیں کیونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات صوبوں کے پاس ہیں۔

غیر ملکی تارکین وطن، بنگالیوں، برمی اور افغانیوں کو شہریت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے کہ اس کی دو کیٹگریاں ہیں۔ ایک وہ جو پاکستان بننے اور بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہونے کے بعد یہاں آگئے ہیں یا وہ پختون ، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے لوگ جو پاکستانی ہیں لیکن انہیں نادرہ میں مسائل ہیں ان کو شہریت ملنی چاہیے لیکن وہ تارکین وطن جو افغانستان میں حالات کی خرابی یا غیر قانونی طور پر دیگر ممالک سے یہاں آباد ہوئے ہیں اور یو این او سے معاہدے کے تحت یہاں پناہ گزین کی حیثیت سے ہیں ان کو شہریت فراہم کی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہہ تو دیا ہے،لیکن وہ بتائیں کہ ان کے پاس غیر ملکی تارکین وطن کو کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے تو وہ کس طرح انہیں پاکستانی شہریت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اسمبلی میں عمران خان نے اپنی اس بات کو کراچی کے حوالے سے کئے جانے کا کہا ہے، جو اس سے زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ کراچی کو پاکستان سے علیحدہ قرار دینا ایک نیا پنڈورہ باکس کھولنے کے مترادف ہے۔

تحریک انصاف کے رکن فیصل واوڈا کی جانب سے 18 ویں ترمیم کو رول بیک کئے جانے کے بیان پر سعید غنی نے کہا کہ سوچے سمجھے بیانات دینے سے کوئی حکومتیں نہیں چلتی ہیں۔ میرا مشورہ ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماء پہلے 18 ترمیم کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں کہ یہ تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے متفقہ فیصلے کے بعد منظور ہوئی ہے، جس کو ایک ایسی سیاسی جماعت جسے زبردستی حکومت میں لایا گیا ہو وہ کیسے رول بیک کرسکتی ہے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات کو ڈی جی کے ڈی اے کی جانب سے ادارے کی شیلڈ، سندھ کی روائتی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔