کے ڈی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر سعید غنی

بدھ ستمبر 18:40

کے ڈی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جا رہے ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت محکمہ بلدیات کے تمام اداروں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، میئر کراچی کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہونے کا رونا درست نہیں البتہ ان کے اختیارات گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کے پاس ضرور منتقل ہوئے ہیں، ماسٹر پلان کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرکے اسے دوبارہ کے ڈی اے میں شامل کرنے کے حوالے سے غور کیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس پر فیصلہ کر لیا جائے گا، کے ڈی اے کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے حوالے سے آج مکمل بریفنگ لی ہے اور جلد ہی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرکے مزید منصوبوں کی منظوری دی جائے گی ، ان کے دیگر مسائل کا حل نکالا جائے گا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، واٹر بورڈ اور آباد کے درمیان این او سی اور نئی تعمیرات کے حوالے سے مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا ، اس سلسلے میں ان دونوں محکموں اور آباد کے نمائندوں سے مفید بات چیت ہوئی ہے، جلد ہی یہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کے ڈی اے میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات خالد شاہ، ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صبح 9.30 بجے صوبائی وزیر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، ایم ڈی واٹر بورڈ محمد خالد شیخ، آباد کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایس بی سی ایس ، آباد اور واٹر بورڈ کے درمیان مسائل اور بالخصوص عدالتوں کی جانب سے تعمیرات پر ان اداروں کو جواز بنا کر عائد کی گئی پابندی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ چند روز میں ہی اس حوالے سے مکمل قانون سازی کرکے عدالتوں میں تمام معاملات کو رکھا جائے گا اور قانون کے مطابق تمام مسائل کا حل کرکے کراچی میں تعمیرات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لئے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے دفتر میں اپنے وزیر کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلے بار تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی اور تمام ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز نے صوبائی وزیر کو مکمل بریفنگ دی اور انہیں درپیش مسائل، فنڈز اور رونیو میں ہونے والی کمی کے اسباب سمیت کے ڈی اے کے تحت کی جانے والی کارروائیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔

اجلاس کے دوران صوبائی وزیر بلدیات نے کے ڈی اے کے بجٹ، اخراجات، ملازمین، زمینوں کے ریکارڈ، آمدنی کے ذرائع اور انہیں درپیش مسائل سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا۔ ڈی جی کے ڈی اے نے صوبائی وزیر کو ادارے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ آج کے ڈی اے میں ان کی پہلی بریفنگ میں انہیں مکمل طور پر آگاہی فراہم کی گئی اور ان کو درپیش مشکلات اور ان کے تمام شعبوں پر تفصیلی بریفنگ کے بعد جلد ہی کے ڈی اے کی گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرکے اس میں ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کے ایس بی سی اے میں منتقل ہونے سے جہاں کے ڈی اے کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں کراچی کے عوام کو بھی مسائل کا سامنا ہے، اس سلسلے میں تمام انکوائری کے بعد ماسٹر پلان کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماسٹر پلان کے ڈی اے کے تحت ہوجائے تو اس سے کئی مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لائیز ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، انجنئیرنگ بیورو، پائپ فیکٹری، پبلک ہائوسنگ اسکیم،پارکس، پارکنگ پلازہ، ریگولر اور کنٹریکٹ ملازمین سمیت تمام امور پر غور کیا گیا ہے اور رکے ہوئے تمام پروجیکٹ کو جلد شروع کرنے، 200 سے زائد بنجر پارکس کو عوام کے لئے تفریح مقام بنانے، 156 قبضہ کئے گئے پارکس کو ریکور کرنے، پارکنگ پلازہ کو کارآمد بنانے سمیت دیگر کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے میں 3200 ریگولر اور 1200 کنٹریکٹ ملازمین ہیں اس سلسلے میں ڈی جی سمیت تمام شعبوں کے ڈائیریکٹرز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے ملازمین کی حاضری کا ہر ماہ سرٹیفکٹ دیں گے، جس کے بعد اس ملازم کو تنخواہ جاری کی جائے گی اور اگر کسی گھوسٹ یا غیر حاضر ملازم کی حاضری کی سرٹیفکٹ کا اجراء ہوا تو اس ملازم کے ساتھ ساتھ مذکورہ ڈائریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اداروں میں ملازمین کی وقت اور ریگولر حاضری پر کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے ایس بی سی اے کے پہلے دن کے دورے پر میں نے واضح کردیا تھا کہ اب کوئی بھی غیر قانونی تعمیرات ہوئی تو اس کے ذمہ دار کو نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مکانات اور گھروں کی خریداری سے قبل اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنی جمع پونجی جہاں لگا رہے ہیں وہ قانونی ہے یا نہیں۔

قبرستانوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی منظوری سے چار اضلاع میں قبرستانوں کے لئے زمین مختص کردی گئی ہے اور اس سلسلے میں اب ان قبرستانوں کو جدید خطوط پر بنانے کے لئے کام کیا جارہا ہے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات کو ڈی جی کے ڈی اے کی جانب سے ادارے کی شیلڈ، سندھ کی روائتی اجرک اور ٹوپی کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔