کارکن شکرانے کے نوافل ادا کریں ، حق حق ہوتا ہے اسے چھپایا نہیں جا سکتا ‘ حمزہ شہباز

نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی رہائی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دینے والے بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر بھی طنز کرتے تھے‘ میڈیا سے گفتگو

بدھ ستمبر 19:22

کارکن شکرانے کے نوافل ادا کریں ، حق حق ہوتا ہے اسے چھپایا نہیں جا سکتا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ حق حق ہوتا ہے جسے چھپایا نہیں جا سکتا ، نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی رہائی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دینے والے بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر بھی طنز کرتے تھے ، باقی ریفرنسز میں بھی قانونی جنگ جاری رکھیں گے اور انشا اللہ نواز شریف سر خرو ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ماڈل ٹائون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے ۔حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم معزز ججز صاحبان کے ریمارکس سن رہی تھی او رنیب سے جو سوال پوچھے جارہے تھے اس کے جواب نہیں دئیے جا سکے ۔

(جاری ہے)

سچ سچ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات انصاف کرتی ہے ۔ کاش یہ دن نہ آتا اور نواز شریف آخری دنوں میں اپنی اہلیہ کی تیمارداری کر سکتے ۔ لیکن یہ اللہ کے فیصلے ہیں ، نواز شریف نے بہت بڑی قربانی دی ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری تائی بیگم کلثوم نواز کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ انہوںنے کہا کہ آج خوشی کا دن ہے کہ ہمارے قائد کو رہائی مل رہی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ خود احتساب عدالت کے فیصلے میں لکھا گیا تھاکہ نواز شریف کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی اور وقت ثابت کرے گا کہ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ کارکنوں سے کہوں گاکہ وہ رب تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کریں۔ انہوںنے دوسرے ریفرنسز میں انصاف ملنے کی توقع بارے سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف ہی وہ واحد شخص ہے جب اس کی اہلیہ جو آئی سی یو میں تھی اور اسی اثناء میں عدالت کا فیصلہ آیا تو ایک طرف بیوی کافرض تھا اور دوسری طرف قومی تقاضے تھے اور نواز شریف دل پر پتھر رکھ کر وطن واپس آئے ۔

یہا ں تو لوگ احتساب عدالت کے فیصلے آنے پر بھاگ جاتے ہیں لیکن نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ بیمار بیوی کو چھوڑ کر پاکستان آئے اور حالات کا سامنا کیا ۔ نواز شریف نے اپنی بیٹی کے ساتھ 119پیشیاں بھگتیں اور یہ انسان تب ہی کرتا ہے جب اس کا دامن صاف ہو ۔ ہم باقی ریفرنسز میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور قانونی جنگ لڑیں گے اور سر خرو ہوں گے ۔ انہوںنے نواز شریف کے استقبال اور جشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس پر مشاورت جاری ہے اور پارٹی بیٹھے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل بنائے گی ۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ نہایت کمزور تھا او راسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ریمارکس پوری قوم کے سامنے ہیں ۔ انہوں نے نواز شریف کی رہائی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دینے کے سوال کے جواب میں کہا کہ جب نواز شریف کی اہلیہ بیمار تھیں تو تب بھی طنز کئے گئے ، حق حق ہوتا ہے اور اسے چھپایا نہیں جا سکتا۔