وزیراعظم کی جانب سے افغان مہاجرین کے بچوں اور بنگلہ دیش کے باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، میر حاصل بزنجو

ہمیں کسی طورپر قابل قبول نہیں ہم غیر ملکیوںکو یہاں پر پاکستانی شہریت دیں اور اپنی قوم کو اقلیت میں تبدیل کریں ،وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ اور 18ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتی ہے مگر وہ اپنی مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی، پریس کانفرنس

بدھ ستمبر 19:50

وزیراعظم کی جانب سے افغان مہاجرین کے بچوں اور بنگلہ دیش کے باشندوں ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغان مہاجرین کے بچوں اور بنگلہ دیش کے باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کا ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یہ ہمیں کسی طورپر قابل قبول نہیں ہے کہ ہم غیر ملکیوںکو یہاں پر پاکستانی شہریت دیں اور اپنی قوم کو اقلیت میں تبدیل کریں وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ اور 18ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتی ہے مگر وہ اپنی مقصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی، ہم پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر اس کی مزاحمت کرینگے۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر سابقہ صوبائی وزیر صحت میر رحمت بلوچ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر عطاء اللہ بنگلزئی، عبدالخالق بلوچ، خیر جان بلوچ اور دیگر پارٹی کے عہدیدار بھی موجود تھے میر حاصل خان بزنجو نے کہا میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ان کے داماد کیپٹن صفدر کو ضمانت پر رہا ہونے پر اپنی اور پارٹی کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتاہوں انہوں نے کہا صوبائی سیکرٹری خزانہ بلوچستان کی ایک رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے بھی پیسے نہیں ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو بلوچستان حکومت کو رقم ملی تھی اس میں کٹوتی شروع کردی ہے جس کی وجہ سے صوبہ مالی بحران سے دوچار ہوا ہے انہوں نے کہا ہمارے اطلاع کے مطابق پی ایس ڈی پی میں 15سے 20فیصد کٹوتی کرنا کا وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے جس سے بلوچستان میں ترقی کا عمل رکھ جائے گا اور حکومت کیلئے بہت مشکلات ہونگے اور بلوچستان میں جوپروجیکٹ شروع کئے ہیں وہ رکھ جائینگے انہوں نے کہا ہم وفاقی حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی صورت میں این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی جو رقم رکھی گئی ہے اس میں کٹوتی کرنی کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے اس سلسلے میں ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر اس مسئلے کو اجاگر کرینگے پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر اس کے بارے میں احتجاج کرینگے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی پارٹی سابقہ دور میں وزارت اعلیٰ سمیت اہم عہدوں پر فائز رہی مگر 2018کے الیکشن میں وہ صوبائی اسمبلی میں ایک نشست بھی حاصل نہیں کرسکی تو انہوں نے کہا اس میں ہماری بھی کچھ کمزریاں تھی انہوں نے کہا چیف جسٹس صاحب ڈیمز بنانے کیلئے جو کوششیں کررہے ہیں انہیں کرنے دیں میر حاصل خان بزنجو نے کہا وزیراعظم عمران خان نے افغان مہاجرین اور بنگلہ دیشی باشندوں کو جو شناختی کارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا ہے ہم نے اس سلسلے میں حکمت عملی طے کرلی ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر اس کو رکھے گے انہوں نے کہا این ایف سی ایوارڈ کی رقم میں جو کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے بہت نقصانات ہونگے شاہد وفاقی حکومت کو اس بارے میں اندازہ نہیں ہے۔

(جاری ہے)

حکومت ایک ایجنڈے کے تحت کام کررہی ہے اور 18ترمیم سمیت کئی اہم منصوبوں کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کی ہم کسی صورت میں اجازت نہیں دینگے۔