ملک کی بہتری کیلئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا،یہ ملک ہے تو ہم ہیں،اسد قیصر

انتخابی دھاندلیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کیلئے حکومت و اپوزیشن کی تمام اتحادی جماعتوں کو خطوط ارسال کردئیے ہیں،ارکان کے نام آتے ہی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اعلان کردینگے،سپیکر قومی اسمبلی

بدھ ستمبر 20:04

ملک کی بہتری کیلئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا،یہ ملک ہے تو ہم ہیں،اسد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ انتخابی دھاندلیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کیلئے حکومت و اپوزیشن کی تمام اتحادی جماعتوں کو خطوط ارسال کردئیے ہیں،ارکان کے نام آتے ہی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اعلان کردینگے ۔وہ بدھ کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات کے دوران بات چیت کر رہے تھے ۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہم سب اس ملک کے یکساں اور مساوی شہری ہیں، البتہ ہم سب کی ذمہ داریاں ہیں ،یہ ملک ہے تو ہم ہیں، اسی ملک کی بہتری کیلئے ہمیں مل کر کردار ادا کرنا ہوگا ،صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، اسے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ تمام قومی ایشوز کو ایوان میں زیر بحث لائیں گے،ایوان کو ڈیبیٹنگ کلب بنانے کی بجائے ماہرین کو یہاں لاکر ان سے مسائل کے حل کیلئے آرا لیں گے اور عمل درآمد کرائیں گے ۔

(جاری ہے)

سپیکر نے کہا کہ پانی کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے اس پر بحث کے ساتھ ماہرین کو بھی بلائینگے ۔انہوں نے کہا کہ خارجہ امور کے مسائل بھی ایوان میں زیر بحث لائینگے اور مضبوط خارجہ پالیسی بنائیں گے، یہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔سپیکر نے کہا کہ یورپ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں تمام مسائل پارلیمان میں ہی حل ہوتے ہیں ،پارلیمانی رپورٹرز کی تربیت کے لئے ورکشاپس کا بھی بندوبست کریں گے،پارلیمانی رپورٹرز بھی اس ایوان کا حصہ ہیں، اس کے قواعد کا احترام ان پر بھی لازم ہے ۔

اسد قیصر نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلا وزیراعظم آیا ہے جو کام کرنا چاہتا ہے،ہم اس پارلیمان کو واقعتاً با اختیار پارلیمنٹ بنائینگے، مسائل کا حل پارلیمان سے ہی حل ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کیلئے حکومت و اپوزیشن کی تمام اتحادی جماعتوں کو خطوط ارسال کردیے ہیں،ارکان کے نام آتے ہی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اعلان کردینگے ،پارلیمانی کمیٹی کو 18 ممبران تک رکھنے کی تجویز ہے مساوی طور پر 9، 9 ممبران ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ کو کمیٹی میں نمائندگی دینے سے متعلق کچھ نہیں کہناچاہوں گا اس موقع پر پی آر اے کی قیادت نے سپیکر کی توجہ بعض امور کی جانب دلائی جس پر سپیکر نے پارلیمانی صحافیوں کو درپیش مسائل کی ہر ممکن حل کی یقین دہانی کرائی۔