موبائل فون مہنگے کرنے سے کتنا ریونیو حاصل ہوگا؟ حماد اظہر نے اہم انکشاف کر دیا

آئی فونز موبائل کی سمگلنگ روک دی جائے تو 10 سے 15 ارب روپے ریونیو اکٹھا ہو سکتا ہے، حماد اظہر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 22:59

موبائل فون مہنگے کرنے سے کتنا ریونیو حاصل ہوگا؟ حماد اظہر نے اہم انکشاف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19ستمبر2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا منی بجٹ سے متعلق ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فنانس بل میں کوئی ایک ایسا ٹیکس نہیں ہے جو کم آمدنی والوں پر لگ سکے بلکہ ٹیکس صرف اشرافیہ اور زیادہ آمدن والے لوگوں پر لگائے گئے ہیں۔عام لوگوں کیلئے اس میں بہت زیادہ ریلیف ہے۔حماد اظہرنے مزید کہا کہ آئی فون کی قیمت پاکستان میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے ہے لیکن گزشتہ سال کسٹم میں صرف 5 ہزار آئی فون کلیئر ہوئے لیکن اسی سال ایکٹویٹ ہونے والے آئی فونز کی تعداد چار سے پانچ لاکھ سے زیادہ تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ فون سمگل ہو کر پاکستان میں آتے ہیں اور ٹیکس ادائیگی کے بغیر ہی فروخت ہو جاتے ہیں اور اگر اس معاملے کی ریگولیشن کر لی جائے اور سمگلنگ روک دی جائے تو 10 سے 15 ارب روپے ریونیو اکٹھا ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک ایسا نظام لا رہی ہے جس میں سمگلنگ کی روک تھام کیلئے آئی ایم ای آئی کا سسٹم پی ٹی اے کے سسٹم کیساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

جس کے بعد ایک کوڈ کے تحت صرف وہی موبائل فون ایکٹویٹ ہو سکے گا جو کسٹم میں ڈکلیئر ہو گا جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ 15 سے 20 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔واضح رہے نئی حکومت نے سگریٹ، لگژری گاڑیوں اور مہنگے موبائل فونز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گزشتہ سال ساڑھے 4 سو ارب روپے کا خسارہ ہوا، گیس کے شعبے میں 100ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے جبکہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مدمیں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔مہنگے فونز پر بھی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔1800 سی سی سے اوپر گاڑیوں پر ڈیوٹی 20 فیصد کر دی گئی۔سالانہ 12 لاکھ آمدنی والے افراد سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا۔سالانہ 40 سے 50 لاکھ آمدنی والوں کو 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔صحت کے سلسلے میں فی خاندان 5لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دئیے جائیں گے۔وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بینگ ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔ رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا۔