اطہر من اللہ اورحسن اورنگزیب بڑے عظیم ججزہیں،اعتزازاحسن

ان جیسےآزاد ذہن، دیانتداراورایماندارججز شاید پاکستان کی تاریخ میں نہ ملیں، یہ دونوں منفرد اور خاندانی ہیں، قانون پر بھرپور عملدرآمد کرتے ہیں،سینئر قانون دان اعتزازاحسن کاردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات ستمبر 15:48

اطہر من اللہ اورحسن اورنگزیب بڑے عظیم ججزہیں،اعتزازاحسن
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20ستمبر 2018ء) سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہاکہ جسٹس اطہر من اللہ اور حسن اورنگزیب بڑے ایماندارججزہیں،ان جیسے آزاد ذہن، دیانتداراور ایماندار ججز شاید پاکستان کی تاریخ میں نہ ملیں، یہ دونوں منفرد اور خاندانی ہیں، قانون پر بھرپور عملدرآمد کرتے ہیں۔انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس سے رہائی پراپنے ردعمل میں کہا کہ فیصلے کا ابھی مختصر حکم آیا ہے۔

جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تومعلوم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اطہر من اللہ اور حسن گل اورنگزیب دونوں بڑے عظیم ججز ہیں۔ان جیسے آزاد ذہن، دیانتداراور ایماندار ججز شاید پاکستان کی تاریخ میں نہ ملیں۔ ہوں گے اور بھی ججز لیکن یہ دونوں منفرد ہیں۔

(جاری ہے)

یہ دونوں ججز خاندانی ہیں، قانون پر بھرپور عملدرآمد کرتے ہیں۔اب وہ جب فیصلہ لکھیں گے اس میں واضح کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں دونوں کوذاتی طور پرجانتا ہوں کہ ان کے فیصلے میں کوئی جھول نہیں آسکتا۔کہ کسی کااثرورسوخ ہویا کسی کافائدہ کریں۔معاملہ ملکیت والا نہیں ہے۔ ملکیت اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔ملکیت میں نیب آرڈیننس اور 1997ء میں احتساب ایکٹ خود بنایا تھا اور خود نافذ کیا تھااگر بچے پراپرٹی نہ دکھاسکیں تووہ باپ سے منسوب کی جائے گی۔ واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)محمد صفدر کو احتساب عدالت نے 6 جولائی کو قید و جرمانے کی سزا کا حکم دیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے 19 ستمبر کو اس حکم کو معطل کرتے ہوئے رہائی کا پروانہ دیا جبکہ نوازشریف نے اسیری کے دنوں میں اپنی اہلیہ کلثوم نواز کو بھی کھودیا۔

نواز شریف اور مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں 69 روز گزارے جب کہ کیپٹن (ر)صفدر 74 روز تک جیل میں رہے۔احتساب عدالت کے 6 جولائی کے فیصلے کے بعد کیپٹن (ر)صفدر مانسہرہ میں روپوش ہوئے اور 8 جولائی کو راولپنڈی پہنچ کر ڈرامائی انداز میں گرفتاری دی۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 13 جولائی کو لندن سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر گرفتاری دی جس کے بعد انہیں وہاں سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔

تینوں افراد کو جیل میں الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کی ملاقات بھی مقررہ دن ہی ہوا کرتی تھی۔ تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ’ای‘ کلاس کے بجائے ’بی‘ کلاس دی گئی۔ جس کا شکوہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے اس وقت کے نگران وزیراعلی حسن عسکری سے بذریعہ خط کیا۔ جیل مینئول کے مطابق ’بی‘ کلاس میں قیدی کو ٹیلی ویژن، اخبار اور بیڈ کی سہولت دی جاتی ہے جب کہ اٹیچ باتھ روم، پنکھا اور ایک مشقتی بھی دیا جاتا ہے۔

14 جولائی کو مریم نواز کی جانب سے جیل سپرنٹنڈنٹ کے نام ایک خط لکھا گیا جس میں انہوں نے بہتر سہولیات لینے سے انکار کیا۔مریم نواز کا یہ خط ان کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ مجھے جیل میں بہتر سہولیات لینے کے لیے درخواست دینے کا کہا گیا لیکن میں نے ’بی‘ کلاس لینے سے انکار کردیا ہے۔نواز شریف اور مریم کو جب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے جن میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاس میں منتقل کیا جائے تاہم اس پر نہ تو عمل درآمد کیا گیا اور نہ ہی نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا گیا۔

قید کے دوران سابق وزیراعظم کے خلاف احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعتیں بھی ہوتی رہیں اور انہیں عدالت کے روبرو بھی پیش کیا جاتا رہا۔جس روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی سزا معطل کی اس روز بھی نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔تینوں کی اسیری کے دوران ہی 25 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں مسلم لیگ کو اکثریت کھو بیٹھی اور پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔

انتخابات کے چار روز بعد 29 جولائی کی رات 8 بجے نواز شریف کی طبیعت اچانک بگڑی جس کے بعد انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)منتقل کیا گیا اور ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا۔اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے جمعرات کا دن مختص ہے اور اسی روز مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور شریف خاندان کے افراد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سے ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔اسیری کے عرصے کے دوران بیگم کلثوم نواز کا انتقال بھی ہوا جس پر دونوں باپ بیٹی اور کیپٹن(ر)صفدر کو 11 ستمبر کی رات سے 17 ستمبر کی شام 4 بجے تک پیرول پر رہائی ملی۔جبکہ 19ستمبر کی شام جیل سے رہائی ملی۔