پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیدی ،فواد چوہدری

سی پیک میں تیسرا اسٹریٹجک پارٹنر سعودی عرب ہوگا، اس سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی جو معاہدے ہوں گے شفاف اور واضح ہوں گے،خادم حرمین شریفین کی تجویز پر اعلی سطح کمیٹی قائم کی گئی ہے، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ایک معتبر وفد سعودی عرب سے پاکستان آئے گا متحدہ عرب امارات میں طویل مشاورت ہوئی ہے، اکتوبر میں وہاںسے بھی اعلیٰ سطح کا وفد آئے گا پاکستان بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے، پاکستان کے ذریعے افغانستان تجارت کا راستہ کھول دیا جائے تو اس کا براہِ راست اثر سی پیک پر پڑے گا افغانستان کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس پر مذاکرات ہونے چاہیئں ،پاکستان مستحکم افغانستان کا خواہاں ہیں نواز شریف کا جیل آنا جانا لگا رہے گا،ان کی رہائی کیلئے کسی ملک سے ڈیل نہیں ہوئی، وہ اتنے اہم نہیں ہیں کہ سعودی عرب ان کیلئے ڈیل کرے نوازشریف اور مریم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے، مقدمے میں خامیاں ختم کرکے وہیں پہنچائیں گے جہاں وہ رہائی سے پہلے تھے ،وزیراطلاعات کی پریس کانفرنس

جمعرات ستمبر 20:13

پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیدی ،فواد چوہدری
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کی دعوت دیدی ہے ، سی پیک میں تیسرا اسٹریٹجک پارٹنر سعودی عرب ہوگا، سعودیہ سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی، جو معاہدے ہوں گے شفاف اور واضح ہوں گے،سعودیہ کی سکیورٹی کا تحفظ پاکستان کی سکیورٹی کا تحفظ ہے،خادم حرمین شریفین کی تجویز پر اعلی سطح کمیٹی قائم کی گئی ہے، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ایک معتبر وفد سعودی عرب سے پاکستان آئے گا، وفد میں سعودیہ کے وزیر خزانہ اور وزیر توانائی آئیں گے،متحدہ عرب امارات میں طویل مشاورت ہوئی ہے، اکتوبر میں متحدہ عرب امارات سے بھی اعلی سطح کا وفد آئے گا،پاکستان بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے، پاکستان کے ذریعے افغانستان تجارت کا راستہ کھول دیا جائے تو اس کا براہِ راست اثر سی پیک پر پڑے گا،افغانستان کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس پر مذاکرات ہونے چاہیئں ،پاکستان مستحکم افغانستان کا خواہاں ہیں،نواز شریف کا جیل آنا جانا لگا رہیگا،ان کی رہائی کیلئے کسی ملک سے ڈیل نہیں ہوئی، وہ اتنے اہم نہیں ہیں کہ سعودی عرب ان کیلئے ڈیل کرے،نوازشریف اور مریم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے، مقدمے میں خامیاں ختم کرکے نوازشریف کو وہیں پہنچائیں گے جہاں وہ رہائی سے پہلے تھے ۔

(جاری ہے)

جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سعودی عرب اور یو اے ای سے تعلقات میں گزشتہ چند سالوں سے سرد مہری تھی جو اس دورے سے ختم ہوئی ہے، ، کراچی میں پانی کی ترسیل کے حوالے سے یو اے ای سے بات کی جائیگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات فوادچودھری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں روضہ رسول ﷺکی زیارت کی سعادت ملی جبکہ تہجد کے وقت خانہ کعبہ کی زیارت نصیب ہوئی اوروزیراعظم اوران کے وفد کے نصیب میں یہ سعادت لکھی تھی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عوام نے بھی وزیراعظم عمران خان کااستقبال کیا جبکہ جدہ شہر کوپاکستانی پرچموں سے سجایاگیا اور خادم الحرمین شریفین،ولی عہدمحمدبن سلمان سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے یقین دلایا سعودی عرب پاکستان کیساتھ کھڑاہے،وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی پاکستان سعودی عرب کیساتھ ہے اور سعودی عرب کو سی پیک کا پارٹنر بننے کی دعوت دی گئی تھی جو انہیں قبول کر لی اس طرح سعودی عرب سی پیک میں تیسرا پارٹنر ہو گا اور سی پیک منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کرے گا فواد چوہدری نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری تھی تاہم وزیراعظم عمران خان کے دورے سے سردمہری کا خاتمہ ہوا ہے اور باہمی تعلقات کو نئی گرمجوشی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل بھی اٹھائے جبکہ یو اے ای احکام سے بھی وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر گفتگو کی۔ ا ن کا کہنا تھا کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں سعودی عرب سے ڈیل ہوگئی ہے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ،نہ تو ڈیل ہو گی اور نہ ہی ڈھیل ہو گی ،میاں صاحب کا جیل میں آنا جانا لگا رہے گا ،سزا معطل ہو ئی ہے باعزت بری نہیں ہوئے ۔

ان کا مزید کہناتھا کہ حسن نواز ،حسین نواز ااور اسحاق ڈار کو باہر رہنے نہیں دیا جائے گا جبکہ صاحب کوآخراڈیالہ ہی جانا ہے ،شریف خاندان سے پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان کی ذاتی لڑائی نہیں ہے ملک میں عدالتیں آزاد ہیں۔فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں نئی گرمجوشی آئی ہے اور سعودی عرب کے راستے بہت بڑی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی ، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سعودی وزیرخزانہ ،توانائی کاوفد پاکستان آئے گا جبکہ سعودی عرب کے بزنس ہیڈزبھی پاکستان آئیں گے ۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کو ابھی ضمانت ملی ہے کیس ختم نہیں ہوئے ، جیل آنا جانا لگا رہے گا ،اہم بات یہ نہیں کہ نوازشریف چھ مہینے ،سال ،دو یا تین سال جیل میں رہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ جو خزانہ وہ لوٹ لے کر گئے ہیں اسے واپس لا یاجائے ۔ فواد چوہدری کا کہناتھا کہ سب سے پہلے جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا تو اب ان کو تسلی ہوگئی ہوگی کہ وہ باہر نکلتے تو ان کو کہاں ڈھونڈتے پھرتے ۔

ان کا کہناتھا کہ خوشی ہوئی کہ جس طریقے سے ن لیگ والوں نے عدالتوں کی تعریف کی ہے ، یعنی فیصلہ حق میں آئے تو عدلیہ آزاد ہے اور جب خلاف آئے تو بکی ہوئی ہے ، آپ اپنی کنفیوژن کو دور کر لیں پہلے ۔ ان کا کہناتھا کہ عدلیہ آزاد ہے جبکہ نیب اپنے خود مختار ہے۔فوادچوہدری کا کہناتھا کہ نوازشریف کو عدالت نے ضمانت دی ہے ، ، جو بھی خامیاں ہیں جن کی وجہ سے ضمانت ہوئی ہے انہیں ختم کیا جائے گا اور نوازشریف کو واپس جیل پہنچایا جائے گا ۔

ان کا کہناتھا کہ نہ تو نوازشریف اور مریم نواز کو باہر جانے دیا جائے اور نہ ہی اسحاق ڈار ، حسن اور حسین نواز کو باہر رہنے دیا جائے گا ، انہیں واپس آنا ہو گا ۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ نہ تو ڈیل ہو گی اور نہ ہی ڈھیل دی جائے گی ۔فواد چوہدری کا کہناتھا کہ یہ اہم نہیں ہے کہ نوازشریف جیل میں رہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ واپس لایاجائے ، وزیراعظم کے خصوصی مشیر شہزاد ارباب کو ٹاسک دیا گیاہے کہ نوازشریف سمیت جس کی بیرون ملک غیر قانونی جائیدادیں ہیں انہیں پاکستان واپس لایا جائے،۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف خاندان سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں، نوازشریف اور مریم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے، جو لوگ ڈیل کی باتیں کررہے ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ سعودی عرب اور نوازشریف کہاں کھڑے ہیں، وہ اتنے اہم نہیں ہیں کہ سعودی عرب ان کے لیے بات کرے۔فواد چوہدری نے پریس بریفنگ کے دوران بھارت سمیت ایران اور افغانستان کے ساتھ بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ تجارت کی جائے اور پاکستان کے ذریعے افغانستان تجارت کا راستہ کھول دیا جائے تو اس کا براہِ راست اثر سی پیک پر پڑے گا اور یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستانیوں کی قسمت بدل دے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس پر مذاکرات ہونے چاہیئں جبکہ پاکستان مستحکم افغانستان کا خواہاں ہیں۔