پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان امن اور مذاکرات کیلئے کھڑا ہے اور کون مذاکرات کے حق میں ہے اور کون نہیں، پاکستان مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن بھارت پیچھے ہٹ گیا ہے، عالمی برادری بھی پاک بھارت مذاکرات کے حق میں ہے، لگتا ہے بھارتی حکومت اندرونی دبائو کا شکار ہے،، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو

جمعہ ستمبر 22:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان امن اور مذاکرات کیلئے کھڑا ہے اور کون مذاکرات کے حق میں ہے اور کون نہیں، پاکستان مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن بھارت پیچھے ہٹ گیا ہے، عالمی برادری بھی پاک بھارت مذاکرات کے حق میں ہے، لگتا ہے بھارتی حکومت اندرونی دبائو کا شکار ہے،، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے کہا تھا کہ وہ ایک قدم بڑھائے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے، وزیراعظم نے کہا تھاکہ بھارت سے تعلقات اچھے ہوں گے خطے میں غربت کم ہو گی۔

(جاری ہے)

فواد چوہدری نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کون مذاکرات کے حق میں ہے اور کون نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ بھارتی حکومت اندرونی دبائو کا شکار ہے، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ مودی حکومت آنے والے انتخابات کی تیاری کر رہی ہے، بھارتی انتخابات میں پاکستان مختلف موقف کو پذیرائی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ بھارت کے معاملات ان کے قابو میں نہیں، بھارتی حکومت کے اندر اختلاف رائے ہے، ساری دنیا نے دیکھا کہ بھارت کیسے امن کی کوشش کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ ہم امن کے لئے کھڑے ہیں، بھارت نے مانا کہ وہ ملاقات کریں گے لیکن بھارت کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی، بھارت میں کچھ لوگ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، چند شدت پسند لوگ مذاکرات اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں کشمیر بنیادی تنازعہ ہے، کوئی بھی بات تب تک سنجیدہ نہیں ہو گی جب تک کشمیر پر بات نہیں ہو گی۔