ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیدت واحترام سے منایاگیا، علم ،ذوالجناح اورتعزیئے کے روایتی جلوس مقررہ مقامات پر اختتام پذیرہوگئے ،سکیورٹی کے سخت انتظامات

ہفتہ ستمبر 11:00

ملتان ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) ملک بھر کی طرح ملتان سمیت پورے جنوبی پنجاب میں یوم عاشورانتہائی عقیدت واحترام سے منایاگیا۔اس موقع پر ملتان شہر سمیت پورے ضلع میں علم ،ذوالجناح اورتعزیئے کے روایتی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے مقررہ مقامات پر اختتام پذیرہوگئے۔اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گے تھے۔

پولیس ،رینجرز ،ایلیٹ فورس سمیت مختلف اداروں کے اہلکار جلوسوں کے ساتھ موجودتھے۔ضلع بھر سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ضلع ملتان میں 137مجالس عزاء منعقد ہوئیں جن میں ذاکرین اورعلماء کرام نے فلسفہ شہادت پرورشنی ڈالی اور حضرت امام حسین اوران کے جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

(جاری ہے)

36مجالس کو حساس قراردیاگیا تھا ۔

یوم عاشور کے موقع پر مجموعی طورپر117ماتمی جلوس نکالے گئے ان میں 21جلوس Aکیٹگری میں شامل کیے گئے تھے۔ملتان میں تعزیئوں کاسب سے بڑا جلوس استاد شاگرد کے تاریخی تعزیئوں کی قیادت میں برآمد ہوا۔چوک حرم گیٹ پر مختلف تعزیئوں کا اجتماع ہوا جس کے بعد شاگرد کا تعزیہ واپس اپنے آستانے کی جانب چلاگیا جبکہ باقی جلوس مقررہ روٹ کی جانب روانہ ہوگئے۔

اسی طرح گھنٹہ گھر میں بھی مختلف ماتمی جلوس جمع ہوئے جہاں عزاداروں نے نماز جمعہ ادا کی ۔تعزیئے کے جلوس اہل سنت کی جانب سے بھی نکالے گئے جن میں استاد والا تعزیہ ،شاگردوالا ،رمضان والا،بکو خان والا،بھیڈی پوتراں،گیلانی والا،لودھی والا،سلیم الدین والا،رشید والا اوراحمد بخش والا قابل ذکر ہیں۔ان میں سے بیشتر تعزیئے دربار پاک مائی پر اختتام پذیرہوئے۔

اہل تشیع کی جانب سے برآمدہونے والے 36تعزیئوں کے جلوس کربلا شاہ شمس پر اختتام پذیرہوئے۔یہ جلوس آستانہ لعل شاہ،ناصرہ آباد،امام بارگاہ جوادیہ،حویلی مر ید شاہ،سورج میانی،شیرشاہ،حسین آباد،آستانہ کوڑے شاہ،تھلہ سادات،لال کرتی،کمنگراں والا،کالے منڈی اوردیگرمقامات سے برآمدہوئے تھے۔اس موقع پر عزاداران حسین نے سینہ کوبی کی اور رنجیروں سے ماتم کیا۔

چوک دولت گیٹ میں تلواروں کا ماتم کیاگیا۔اس موقع پر ریسکیو 1122،محکمہ صحت اورسول ڈیفنس کی جانب سے مختلف مقامات پر طبی کیمپس بھی لگائے گئے تھے۔میپکو ،واسا اور دیگر اداروں کے اہلکاربھی موجودتھے۔جلوس کے تمام راستوں کو سیل کردیاگیاتھا اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔بغیر شناختی کارڈ اوربغیر تلاشی کے کسی کو جلوس میںشامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک،کمشنرملتان ندیم ارشاد کیانی،ڈی سی مدثرریاض ملک،سی پی او منیر مسعود مارتھ اوردیگر افسران نے مختلف مقامات کادورہ کیااور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ڈی سی او آفس اور سی پی او آفس میں کنٹرول رومز قائم کیے گئے تھے جہاں تمام صورتحال کی لمحہ لمحہ نگرانی جاری تھی۔ماتمی جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی اور امن وامان کی صورتحال کو برقراررکھنے کیضلع ملتان پولیس کے کل3066پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامورتھے جن میں 54انسپکٹر ،170سب انسپکٹر،266اسسٹنٹ سب انسپکٹرز،135ہیڈ کانسٹیبل اور2424کانسٹیبلان شامل تھے۔

اس کے علاوہ 10 ریزروز ڈسٹرکٹ پولیس لائن میں ہائی الرٹ رہیںنیز400پولیس قومی رضاکاران اور1700وا لنٹئیرزنے فرائض انجام دیئے۔ماتمی جلوسوں کے اختتام پر مختلف امام بارگاہوں میں شام غریباں کی مجالس برپا ہوئیں۔