جھنگ، ضلع بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا، تعزیہ، علم اور شبیہ زوالجناح کے جلوس برآمد،سیکورٹی کے سخت انتظامات

ہفتہ ستمبر 11:00

جھنگ ۔22ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) ضلع بھر میں یوم عاشور مذہبی جذبے سے سخت سیکورٹی حصار میں منایا گیا۔ حضرت امام حسین اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے میدان میں اسلام کی بالادستی کے لئے دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد میں ہر طرف غم اور الم کی فضا قائم رہی۔ آج ضلع بھر میں 240ماتمی جلوس نکالے گئے جن میں تعزیہ، الم اور شبیہ زوالجناح کے جلوس شامل ہیں۔

اسی طرح رات کے وقت 150مختلف جگہوں پر مجالس شام غریباں پڑھی گئیں۔ شہر کا مرکزی ماتمی جلوس آج صبح سویرے امام بارگاہ گوہر شاہ سے برآمد ہوا ۔ تعزیے کے اس جلوس کا شہر میں طویل روٹ ہے۔ یہ جلوس سیشن چوک، فوارہ چوک، شہید روڈ، ریل بازار چوک، ریل بازار، کٹڑہ بیروالا، دھجی روڈ ، مسجد قاضیانوالی، محلہ دبکراں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ بلاق شاہ پہنچا۔

(جاری ہے)

مرکزی جلوس کے دوران اسمیں کئی ماتمی جلوس شامل ہوتے رہے جن میں الم، زوالجناح اور تعزیہ کے 6دیگر جلوس بھی شامل ہیںدوسرے راستوں سے بھی کئی ماتمی جلوس امام بارگاہ بلاق شاہ پہنچے۔جلوس کے شرکاء پورے راستہ میں نوحہ خوانی کرتے رہے اورعزادار ماتم کرنے کے علاوہ زنجیر زنی بھی کرتے رہے۔ جلوس کے پورے روٹ پر کھانے پینے کی سبیلیں لگائی گئی تھیں۔

نماز مغرب سے پہلے یہ مرکزی جلوس اپنے اختتام کو پہنچا ۔ ڈسٹرکٹ پولیس نے اس مرکزی جلوس کے لئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے تھے۔ جلوس کے راستہ میں آنے والے تمام داخلی راستے خاردار تاروں سے سیل کر دئے گئے تھے اور جلوس کے شرکاء کو سخت چیکنگ کے جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جلوس کا تمام روٹ بم ڈسپوزل سقواڈ چیک کرتا رہا اور سارے راستہ میں کلوز سرکٹ کیمر وں کی مدد سے مانیٹرنگ جاری رہی۔

احمد پور سیال، اٹھارہ ہزاری، گڑھ مہاراجہ، گڑھ موڑ، شورکوٹ سٹی، قائم بھروانہ، حویلی بہادر شاہ، شاہ جیونہ، چنڈ، باغ ٹائون اور دیگر کئی جگہوں سے بھی ماتمی جلوس نکالے گئے۔ یہ تمام جلوس بھی سخت سیکورٹی کے باعث پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گئے۔رات کو 150 مقامات پر مجالس کا انعقد کیا گیا۔ تین ہزار سے زائد سیکورٹی جوانوں نے محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کی۔

سخت سیکورٹی انتظامات اور عوام کے بھرپور تعاون کے باعث ضلع کے کسی بھی علاقہ سے کسی نا خوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ریسکیو 1122نے بھی ایمرجنسی ڈیوٹیوں کے لئے ہر جلوس کا ساتھ دیا اور زخمیوں کی مرہم پٹی بھی کرتے رہے۔ ڈپٹی کمشنر حافظ شوکت علی اور ڈی پی او شاکر حسین داوڑ مختلف موقعوں پر جلوسوں کے روٹ چیک کرکے سیکورٹی پر مامور جوانوں کی ہمت بڑھاتے رہے۔

اُہوں نے مانیٹرنگ کے لئے قائم کئے گئے کنٹرول روم کا بھی معائنہ کیا۔ شہر کے تمام قبرستانوں میں لوگوں کا ہجوم جاری رہا۔ شہریوں نے قبرستانوں کا رُخ کیا اور اپنے عزیزواقرب کے لئے فاتحہ خوانی کرتے رہے۔ جمعہ کے خطبات میں مختلف فرقوں کے علما نے حضرت امام حسین اور اُنکے رفقاء کی قربانیوں پر روشنی ڈالی اور اُنہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔مقامی احرار پارک میں تین روزہ شہادت حسین کانفرنس منعقد ہوئی جس سے سنی مکتب فکر کے جید علما نے خطاب کیا اور پیغمبر اسلامﷺ کے نواسے حضرت امام حسین اور انکے رفقاء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔