نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کا یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا ،ْ ملک بھر کی طرح پنجاب کے ہزاروں مقامات پر مجالس عزا، علم اور شبیہ ذوالجناح کے جلوس برآمد ہو ئے، صوبائی دارالحکومت میں مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوکر کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہوا

حضرت امام حسینؓ اور انکے رفقاء کی حق، انصاف اور اسلام کی سربلندی کیلئے عظیم قربانی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا،عزادار زنجیر زنی کے ساتھ ساتھ غم حسینؓ میں ماتم کرتے رہے پنجاب میں تقریبا 2800 جلوس اور 2100 کے قریب مجالس کی سیکورٹی کیلئے دولاکھ 15ہزار پولیس اہلکار وں نے فرائض سرانجام د ئیے یوم عاشور پر امن و امان اور سیکورٹی کی صورتحال کووزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی مانیٹر کرتے رہے ، لاہور سمیت بعض مقامات پر جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی

ہفتہ ستمبر 11:00

لاہور۔22ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ کا یوم شہادت ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مجالس عزا کے انعقاد کے علاوہ علم اور شبیہہ ذوالجناح کے جلوس برآمد ہو ئے جبکہ علماء کرام و ذاکرین نے واقعہ کربلا کے فضائل و مصائب پر روشنی ڈالی نیزحضرت امام حسینؓ اور انکے رفقاء کی حق، انصاف اور اسلام کی سربلندی کیلئے عظیم قربانی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اس سلسلہ میں صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ کے دیگر اضلاع میںہزاروں مقامات پر مذہبی اجتماعات اور تقاریب منعقد کی گئیں ۔ پنجاب کے دیگر ڈویژن ،ضلعی اور تحصیل سطح پر قائم کنٹرول روم مرکزی کنٹرول روم سے رابطہ میں رہے ، لاہور سمیت بعض مقامات پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

(جاری ہے)

پنجاب میں چھوٹے بڑے تقریبا 2800 جلوس اور 2100 کے قریب مجالس کو سیکورٹی فراہم کی گئی ۔

دولاکھ 15ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتے رہے جبکہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فضائی نگرانی بھی کی جا تی رہی -فوج کے 10 ہزار افسر جوان اور رینجرز کے 1900 جوانوں نے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دئیے ۔ فضائی نگرانی کیلئے پنجاب حکومت نی4ہیلی کاپٹرز کی خدمات مہیا کیں۔یوم عاشور پر امن و امان اور سیکورٹی کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کیلئیوزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی سرگرم رہے ۔

انہوں نے سول سیکرٹریٹ میں قائم کیئے گئے محرم الحرام کے مرکزی کنٹرول روم کا دورہ کیا اور کنٹرول روم کے مختلف شعبے دیکھے ۔لاہور میں 10محرم کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی دروزاہ سے برآمد ہوا جبکہ دیگرعلم اور شبیہہ ذوالجناح کے جلوس بھی مرکزی جلوس میں شامل ہو گئے قبل ازیں مختلف علمائے کرام اور ذاکرین نے مجالس عزا سے خطاب کیا۔

مرکزی جلوس چوک رنگ محل ،ْ مسجد وزیر خان ،ْ چوہٹہ مفتی باقر سوہا بازار ،ْ اندرون ٹیکسالی گیٹ اور اندرون بھاٹی سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہوا ۔جلوس میں شامل عزا داروں نے نوحہ کنی ،ماتم اور زنجیر زنی کی اور غم حسینؓ میں دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ جلوس میں خواتین سمیت بچوں، بوڑھوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔جلوس کے روٹ پر دودھ اور پانی کی سبیلیں لگائی گئی تھیںجبکہ جلوس کے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔

اس سلسلہ میں لاہور کی مرکزی امام بارگاہ کربلا گامے شاہ سمیت صوبائی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں کی سیکورٹی انتہائی سخت تھی جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی امام بارگاہوں،مجالس اور ماتمی جلوسوں کی سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے تھے۔ امام بارگاہوں کے داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹ اور اس کے قریبی علاقہ کی چھتوں پر اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

جلوس کے اختتام پر کربلا گامے شاہ میں مجلس شام غریباں منعقد ہوئی جس سے مختلف نامور ذاکرین نے خطاب کیا۔ اسی طرح صوبہ بھر میں یوم عاشور پر مجالس شام غریباں منعقد کی گئیں جبکہ سرکاری و نجی ٹی وی چینلز اور ریڈیو نے مجالس شام غریباں نشر کیں۔اخبارات میںبھی سیدالشہدا امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی کے حوالے سے خصوصی ایڈیشن شائع کئے گئے۔

صوبائی دارلحکومت میں پولیس بھاری نفری نے اپنے فرائض سر انجام دئیے اور شہر میںمجالس اورجلوسوں کوسیکورٹی فراہم کی۔ مجالس اور جلوسوں کے لئے روٹ پر نفری کے علاوہ ایلیٹ فورس ،ْ محافظ فورس ،ْ گھڑ سوار دستے ،ْ سراغ رساں کتے اور موبائل سکواڈ بھی تعینات کئے گئے تھے جبکہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد تھی بعض علاقوں میں موبائل سروس معطل رہی۔

عاشورہمحرم الحرام پر عزا داروں کو بروقت طبی امداد پہنچانے اور ہر قسم کے مریضوں کوعلاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے لاہور ڈویژن کے ہسپتالوں میں فول پروف انتظامات کئے گئے تھے جبکہ عملے کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے اسے الرٹ رہنے کہ ہدایت کی گئی تھی ۔ پنجاب ایمر جنسی سرو س(ریسکیو1122 ) نے یوم عاشور پرماتمی جلوسوں کے دوران ایمرجنسی کورکی فراہمی کیلئے پنجاب کے تمام بڑے شہروںمیں ریسکیو1122 کے جوانوں کی چھٹیاں محدود کرکے اُن کی مخصوص ایمرجنسی ڈیوٹیاں لگا ئی تھیں ۔

واسا کی طرف سے بھی ذوالجناح کے راستوں اور مجالس کے جگہوں کے سیوریج صاف رکھے گئے اور وہاں پر پینے کے پانی کی وافر مقدار میں فراہمی جاری رہی جبکہ لوڈ شیڈنگ کے خدشہ کے پیش نظر ٹیوب ویلوں پر نصب جنریٹر وںپر ڈیزل اور آپریٹرز کی حا ضری یقینی بنائی گئی۔ لاہور میں ٹریفک پولیس نے جلوسوں کے روٹس پر ٹریفک کو جلوسوں سے دورر کھنے کیلئے ٹریفک کے متبادل انتظامات کئے تھے۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو ) نے بھی عاشورہ محرم الحرام پربجلی کی مسلسل، بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کئے تھے۔ عزاداری کے تمام معروف مقامات نثار حویلی، کربلا گامے شاہ بھاٹی گیٹ،امامیہ کالونی ،موچی گیٹ ‘ نیاز بیگ اور پانڈو سٹریٹ اسلامپورہ میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متبادل انتظام کے طورپر ڈیزل جنریٹرزفراہم کئے گئے تھے ۔دریں اثناء یوم عاشور کے موقع پر قبرستانوں میں بھی عوام کا رش رہا جبکہ شہریوں کا اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کرنے کی غرض سے شہر خاموشاںمیں آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا۔