مولاناسمیع الحق کابنگالی وافغانوں کوشناختی دستاویزدینے اعلان کاخیرمقدم

تحریک وقیام پاکستان میںبنگلہ بولنے والوںکابنیادی کردارہے،قاری سیف الرحمن سے گفتگو

ہفتہ ستمبر 13:29

مولاناسمیع الحق کابنگالی وافغانوں کوشناختی دستاویزدینے اعلان کاخیرمقدم
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) سینئرسیاستدان وقائدجمعیت علمائے اسلام(س) مولاناسمیع الحق نے بانیان پاکستان بنگلہ بولنے والوںاورعرصہ درازسے پاکستان میںمقیم افغانوںکووزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے شناختی دستاویزات دینے کے اعلان کاخیرمقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کوملکی مستقبل کیلئے ایک اہم سنگ میل قراردیاہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارجمعیت علمائے اسلام(س)سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل قاری سیف الرحمن سے ٹیلیفونک گفتگوکرتے ہوئے کیا،اس موقع پرحافظ دلاورحسین بھی موجودتھے، مولاناسمیع الحق نے کہاکہ بنگلہ بولنے انتہائی جفاکش اورمحنتی لوگ ہیں،ان کے آبائواجدادنے قیام پاکستان کیلئے تحریک کی بنیادرکھی،قیام پاکستان کیلئے آل پاکستان مسلم لیگ کاپہلااجلاس ہی بنگلہ بولنے والوںکی میزبانی میںڈھاکہ میںمنعقدہواتھا،قیام پاکستان کے بعدمملکت خدادادپاکستان کی وزارت عظمیٰ سے لیکراہم وکلیدی عہدوںپربنگلہ بولنے والے رہنماولیڈران فائزرہے،1965 ء کے پاک انڈیا جنگ میںپاکستان ایئرفورس کے جس عظیم ہیرونے انڈیاکوناکوںچنے چبوائے اورایک منٹ میںانڈین سورمائوںکے 6جنگی جہازوںکوخاک میںملاکر فضائی جنگ کی دنیا میںتاریخ رقم کی وہ ہیروایم ایم عالم بنگالی نژادپاکستانی تھے،ایک عالمی سازش کے تحت مشرقی پاکستان کوالگ کرنے کی سزاموجودہ پاکستان میںروزاول سے رہنے والے بنگالیوںکودیناسراسرناانصافی وظلم پرمبنی تھا،ماضی کی حکومتوںکے برعکس موجودہ وزیراعظم عمران خان نے واضح طورپربنگلہ بولنے والوںکوان کے بنیادی حقوق دینے کااعلان کرکے ایک نہایت ہی مستحسن اقدام اٹھایاہے اس فیصلے کے ملکی وبین الاقوامی سطح پرانتہائی مثبت اثرات مرتب ہوںگے،اسی طرح1979ء کے روس وافغان جنگ کے متاثرہ لاکھوںافغان مہاجرین کی اولادوںکوبھی بین الاقوامی قوانین اورحقوق انسانی کے تحت شناختی دستاویزات کی فراہمی بالکل درست فیصلہ ہے،امیدہے کہ وزیراعظم کے اس اعلان پرجلدعمل درآمدشروع کردیاجائیگا،دونوںمتاثرہ اقوام کوشناختی دستاویزات کی فراہمی سے کافی سارے مسائل خودبخودحل ہوجائیںگے۔