پاک بھارت مذاکرات منسوخ ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

مودی سرکار نے مبینہ طور پر انتخابات کے پیش نظر پاک بھارت مذاکرات منسوخ کیے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ ستمبر 13:59

پاک بھارت مذاکرات منسوخ ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 ستمبر 2018ء) : پاک بھارت مذاکرات ایک مرتبہ پھر سے منسوخ ہو گئے جس پر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ مودی سرکار نے پاک بھارت مذاکرات منسوخ کر دئے ہیں جس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ہے اور وہ وجہ مبینہ طور پر بھارت میں ہونے والے انتخابات ہیں۔ مودی سرکار کا ایجنڈا ہمیشہ سے ہی اینٹی پاکستان رہا ہے ، انہوں نے گذشتہ انتخابات میں بھی اینٹی پاکستان ایجنڈے پر ہی کامیابی حاصل کی تھی ، ایسے میں بھارت پاکستان سے مذاکرات کر کے مودی سرکار کے اینٹی پاکستان تاثر کو زائل نہیں کر سکتا کیونکہ اگر مودی سرکار نے مذاکرات کے لیے پاکستان سے ہاتھ ملایا تو ممکنہ طور پر بھارت میں انتہا پسند اور پاکستان مخالف طبقہ متحرک ہو جائے گا اور اس طبقے کے متحرک ہونے سے انتخابات میں مودی سرکار کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے ، یہی نہیں بلکہ پاک بھارت مذاکرات کی وجہ سے بھارتی جنتیہ پارٹی کے ووٹ بنک کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

اسی دباؤ کی وجہ سے بھارت نے پاک بھارت مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے نیویارک میں ہونے والی پاک بھارت وزرائے خارجہ میٹنگ بھی منسوخ کر دی۔ اس حوالے سے بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کی پُرانی روایت قائم رکھی اور گذشتہ روز ترجمان بھارتی وزارت خارجہ رویش کمارنے بیان جاری کیا کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں کوئی میٹنگ نہیں ہوگی۔

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اہلکاروں کے قتل کے پیچھے پاکستان ملوث ہے۔ کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق رپورٹ سے خوفزدہ ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کی منسوخی اور نیویارک میں پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ ہونے پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کے جواب میں بھارت کا پیچھے ہٹنا افسوس ناک ہے۔

امریکہ روانگی سے قبل وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ بھارت میں ایک طبقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا مذاکرات کا مخالف ہے۔ میڈیا کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنا کسی طور لیڈر شپ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ اگر بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے، مذکرات اور بات چیت کے علاوہ اگر کوئی اور راستہ ہے تو بھارت بتا دے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا سنگھ مودی کے خط کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پاک بھارت مذاکرات پر زور دیا اور تجویز دی تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات طے کی جائے۔ جس پر بھارت نے ملاقات کی حامی بھری تھی جس کی نئی دہلی کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق بھی کی تھی۔ جس کے تحت پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہونا تھی جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔