بھارت نے پھر ہٹ دھرمی کی رویت برقرار رکھتے ہوئے اعلان کے باوجود پاک وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کر دی

ملاقات منسوخی کے لئے نام نہاد بہانے تراشے گئے ،ْ پاکستان کیخلاف بے جا الزام تراشی کی گئی ،ْ دفتر خارجہ کا ملاقات کی منسوخ پر مایوسی کا اظہار وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان افسوس ناک ہے اور مہذب روایات و سفارتی آداب کے منافی ہے ،ْترجمان

ہفتہ ستمبر 14:20

بھارت نے پھر ہٹ دھرمی کی رویت برقرار رکھتے ہوئے اعلان کے باوجود پاک ..
اسلام آباد /نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) بھارت نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کی رویت برقرار رکھتے ہوئے اعلان کے باوجود پاک وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کر دی جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ ملاقات کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اس کی منسوخی کیلئے بھارت کی جانب سے بیان کی گئی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے ،ْملاقات منسوخی کے لئے نام نہاد بہانے تراشے گئے ،ْ پاکستان کیخلاف بے جا الزام تراشی کی گئی ،ْ وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان افسوس ناک ہے اور مہذب روایات و سفارتی آداب کے منافی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت نے پاک بھارت وزراء خارجہ کی ملاقات کیلئے رضا مندی ظاہر کر نے کے ایک ہی دن بعد ملاقات سے انکار کر تے ہوئے نیویارک میں شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی ہونے والی ملاقات منسوخ کردی ۔

(جاری ہے)

بھارتی میڈیا نے بھارتی وزارت خارجہ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بھارت نے شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی نیویارک میں ہونے والی ملاقات منسوخ کردی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب کے نام لکھے اپنے خط میں مذاکرت کے مسائل کے حل کی تجویز دی تھی ۔پاکستانی وزیراعظم کے خط کے جواب میں بھارت نے پاک بھارت وزراء خارجہ کی ملاقات کی حامی بھری تھی جس کی نئی دہلی کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق بھی کی تھی ۔ بھارت کی طرف سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی تھی کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ میں مزاکرات نہیں کریں ایک رسمی سی ملاقات ہوگی ۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جس ملاقات کو بھارتی دفتر خارجہ رسمی ملاقات کہہ رہا تھا اسے بھی اب منسوخ کردیا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان نے کہا کہ اسے پاک بھارت وزرائے خارجہ کی مجوزہ ملاقات کی منسوخی کے بھارتی فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی، ملاقات منسوخی کے لئے نام نہاد بہانے تراشے گئے اور پاکستان کیخلاف بے جا الزام تراشی کی گئی۔ترجمان کے مطابق بھارت نے وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کر کے امن کا ایک اور موقع ضائع کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان افسوس ناک ہے اور مہذب روایات و سفارتی آداب کے منافی ہے۔دفتر خارجہ نے پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات منسوخی پر رد عمل میں کہا کہ ملاقات کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اس کی منسوخی کیلئے بھارت کی جانب سے بیان کی گئی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے جوان کی مبینہ ہلاکت،ملاقات کے فیصلے سے 2 روز قبل ہوئی ،ْپاکستان رینجرز نے بی ایس ایف کو سرکاری سطح پر آگاہ کر دیا تھا کہ فوجی کی ہلاکت میں ان کا ہاتھ نہیں ،ْ رینجرز نے بھارتی فوجی کی لاش تلاش کرنے میں بی ایس ایف کی مدد کی تھی۔

ان حقائق سے بھارتی حکام اور میڈیا بخوبی آگاہ تھا اسکے باوجود پاکستان کے خلاف منفی اور من گھڑت پروپیگنڈہ کیا گیا ،ْپاکستان سچ جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات کیلئے تیار ہے ،ْ دہشتگردی کا راگ الاپنے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم نہیں چھپا سکتا۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جن ڈاک ٹکٹوں کا ذکر کر رہا ہے وہ 25 جولائی سے پہلے جاری ہوئے۔

ڈاک ٹکٹوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس سے بڑھ کر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند ہے اورمستقبل میں امن کے لئے کوشاں رہے گا۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ پٴْرامن اور اچھے تعلقات چاہتا ہے، جو برابری کی سطح، مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کے تحت ہوں۔دفتر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا کہ ہمارے نزدیک مذاکرات اور سفارت کاری نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ضروری ہے۔