ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام سے منایا گیا

جلوس کی سکیورٹی کیلئے سخت انتظامات ،کوئٹہ میں موبائل فون سروس معطل ،ڈبل سواری پر پابندی رہی ،جلوس کی فضائی نگرانی کی گئی

ہفتہ ستمبر 14:22

ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام سے منایا ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام سے منایا گیا ،کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہوکر واپس علمدار روڈ پر باخیر و عافیت اختتام پذیر ہوا، جلوس کی سکیورٹی کے لئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ،کوئٹہ میں موبائل فون سروس معطل جبکہ ڈبل سواری پر پابندی رہی کوئٹہ میں جلوس کی فضائی نگرانی کی گئی ، تفصیلا ت کے مطابق جمعہ کو یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ پنجابی علمدار روڈ سے بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر دائو دآغا و دیگر کی قیادت میں برآمد ہوا، جلوس میں شہر بھر سے 30 ماتمی دستے شامل تھے عزار دار نوحہ خوانی، سینہ کوبی کرتے ہوئے باچا خان چوک پہنچے جہاں ذاکرین نے شہداء کربلا کی لازوال قربانیوں پر روشنی ڈالی، جس کے بعد نماز جمعہ ادا کی گی، بعد ازاں جلوس لیاقت بازار، جنکشن چوک، پرنس روڈ، میکانگی روڈ، سعید احمد اسٹریٹ سے ہوتے ہوئے علمدار روڈ پرامام بارگاہ پنجابی پہنچے جہاں مغرب کے وقت جلوس اختتام پذیر ہوا، جلوس کے راستوں میں پانی ، دودھ، کہوہ اور چائے کی سبیلیں بھی لگائی گئی تھیں، جلوس کی سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے تھے جلوس کی حفاظت پر پولیس، ایف سی اور لیویز کے 7ہزار اہلکار مامورتھے بلوچستان پولیس کے 5ہزار 200 اہلکاروں نے جلوس کی حفاظت کے فرائض سرانجام دئیے جبکہ پہاڑی چوٹیوں اور میدانی علاقوں میں ایف سی اور لیویز اہلکار تعینات کئے گئے تھے یومعاشورہ کے موقع پر شہر بھر میں موبائل فون سروس مکمل طور پر بند رہی ، عاشورہ جلوس کی روٹ پر آنیوالے 168سڑکوں اور گلیوں کو مکمل سیل کیاگیا جبکہ روٹ پر آنیوالے 198عمارتوں کی چھتوں پر پولیس اور ایف سی کے اہلکار تعینات تھے ، جلوس کی روٹ پر آنیوالے تمام دکانوں کو سرچنگ کے بعد سیل کر دیا گیا تھا اور آئی جی پولیس، ڈی آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول رومز قائم کیے گئے تھے جہاں سے 130 کیمروں کی مدد سے جلوس کی مکمل نگرانی کی گئی ،سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنا نے کے لئے پاک فوج اور ایف سی کی جانب سے عاشورہ جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی 3 بٹالین کو ہائی الررٹ رہنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی ۔