بھارت نے سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں کرانے کی پاکستانی تجویز مسترد کردی

سارک سے متعلق بھارت کا موقف واضح اور مستقل ہے، پاکستان کی میزبانی میں سارک اجلاس ہونا مشکل ہے ،ْبھارتی وزارت خارجہ

ہفتہ ستمبر 14:40

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود بھارت نے سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں کرانے کی پاکستانی تجویز مسترد کردی۔بھارت نے سارک سربراہ اجلاس کیلئے پاکستان کی میزبانی کی مخالفت کردی ہے اور اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق موجودہ ماحول پاکستان میں سارک سربراہ اجلاس کیلئے مناسب نہیں۔

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سارک سے متعلق بھارت کا موقف واضح اور مستقل ہے، پاکستان کی میزبانی میں سارک اجلاس ہونا مشکل ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب کو لکھے گئے خط میں سارک اجلاس پر بھی بات کی تھی اور ساتھ ہی مذاکرات بحال کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔

(جاری ہے)

بھارتی حکومت مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات پر رضامند ہوگئی اور نیویارک میں 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی ملاقات طے پائی تاہو بھارت نے دوسرے ہی روز ملاقات منسوخ کر دی ۔

یاد رہے کہ 2014 میں سارک سربراہ اجلاس کھٹمنڈو میں ہواتھا جس کے بعد 2016 کا اجلاس اسلام آباد میں ہونا تھا تاہمبھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اڑی کیمپ پر حملے کو جواز بنا کر اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا ،ْبھارتی انکار کے بعد بنگلادیش، بھوٹان اور افغانستان نے بھی اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔