پی ٹی آئی رہنماء فردوس شمیم نقوی نےاستعفیٰ دے دیا

شمیم نقوی نے پارٹی صدر کراچی کے عہدے سے استعفیٰ دیا،بطور اپوزیشن لیڈر سندھ کے مسائل پرتوجہ دینا چاہتا ہوں۔ پی ٹی آئی کے رہنماء فردوس شمیم نقوی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ ستمبر 15:17

پی ٹی آئی رہنماء فردوس شمیم نقوی نےاستعفیٰ دے دیا
کراچی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 ستمبر 2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر اور اپوزیشن فردوس شمیم نقوی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، شمیم نقوی نے اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین کوبھجوا دیا ہے، بطور اپوزیشن لیڈر سندھ کے مسائل پرتوجہ دینا چاہتا ہوں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماء اور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے اپنے اپنے پارٹی صدرکراچی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے اپنا استعفیٰ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کوبھجوا دیا ہے۔ فردوس نقوی کا کہنا ہے کہ بطور اپوزیشن لیڈر سندھ کے مسائل پرتوجہ دینا چاہتا ہوں۔ دوسری جانب انہوں نے گزشتہ روزاپنے بیان میں کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سندھ حکومت کا منہ چڑا رہی ہے۔

(جاری ہے)

پی پی والوں نے دسیوں سال حکومت کی لیکن محکمہ صحت کو ٹھیک نہ کیا۔ فردوس شمیم نقوی نے یہ باتیں پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی سے جاری کردہ اپنے خصوصی بیان میں کہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام الناس سرکاری ہسپتالوں کو اپنی بیماریوں کے علاج کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ لوگ مریض لے کر ہسپتالوں کے باہر بیٹھے رہتے ہیں اور ڈاکٹر ان کا علاج نہیں کرتے۔ ایمرجنسی میں زخمی حالت میں لائے گئے مریض بھی ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ لوگ رشوت نہ دیں یا سفارش نہ کریں تو ان کے عزیز موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ہزاروں اور لاکھوں میں تنخواہ پانے والا محکمہ صحت کا عملہ بدعنوانی میں ملوث ہے۔ یہ بدعنوانی اوپر سے ہی نیچے کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ بدعنوان سیاست دانوں نے ہی دسیوں سال سندھ پر حکومت کی اور اب تک کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کا خراب رویہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے دور بھاگنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کتنے ہی لوگ تڑپ تڑپ کر مرنا پسند کرتے ہیں لیکن ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے۔ سرکاری ہسپتال سزائے موت کی کال کوٹھڑی اور ڈاکٹر جلاد بنتے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف اس صورتحال کو بدلنا چاہتی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولت آسانی سے حاصل کرسکیں۔ اس کے لیے سندھ حکومت کو بڑے پیمانے پر جامع حکمت عملی سے اصلاحات لانا ہوں گی۔