نوازشریف کبھی ڈیل کےحق میں تھےنہ ہیں،شاہد خاقان عباسی

عمران خان سول ملٹری تناؤ کوایک مفروضہ کہتے ہیں،لیکن پس پردہ رہ کرسیاست میں ملٹری کا کردار ہے،ہمارا فوج یا اداروں سے کوئی جھگڑا نہیں،ہم چاہتے ہیں ملک کا نظام آئین کے تحت چلے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ ستمبر 17:29

نوازشریف کبھی ڈیل کےحق میں تھےنہ ہیں،شاہد خاقان عباسی
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22ستمبر 2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف کبھی ڈیل کے حق میں تھے نہ ہیں،عمران خان سول ملٹری تناؤ کوایک مفروضہ کہتے ہیں،لیکن پس پردہ رہ کرسیاست میں ملٹری کا کردار ہے، ہمارا فوج یا اداروں سے کوئی جھگڑا نہیں،ہم چاہتے ہیں ملک کا نظام آئین کے تحت چلے۔

انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف کسی ڈیل کے حق میں کبھی تھے نہ آج ہیں۔ڈیل کے بڑے مواقع آئے ہیں لیکن ڈیل وہاں ممکن نہیں ہوتی جہاں اصولوں پرسودے بازی ہو۔شاہد خاقان نے کہا کہ میں وزیراعظم رہا ہوں سول اور ملٹری تعلقات، روایات پیدا ہوگئی ہیں ان کوختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ میڈیا پرکنٹرولڈ ہیں، عدلیہ کے لوگ شکایات کررہے ہیں ، الیکشن میں جو کچھ ہوا یہ سب کے سامنے ہے۔

(جاری ہے)

یہ چیزیں نہیں ہونی چاہئے تھیں ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے تھا لیکن ہم نے سبق حاصل نہیں کیا۔ ہم نے اس کا خمیازہ ماضی میں بھگتا ہے آج بھی بھگتنا پڑے گا۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اب وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے یہ ایک متھ ہے۔ تاہم ملک کے اندر تنازع رہا ہے۔عمران خان سول ملٹری تناؤ کوایک مفروضہ کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پس پردہ رہ کرسیاست میں ملٹری کا کردار ہے۔جوکہ ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں ہے ، ہمارا فوج سے جھگڑا ہے نہ ہی کسی اور ادارے سے جھگڑاہے۔ ہم چاہتے ہیں تمام معاملات اور ملک کا نظام آئین کے تحت چلیں۔جب چیزیں آئین کے باہر ہوتی ہیں تواس کے ملک پراثرات ہوتے ہیں اسی کی وجہ سے مارشل لاء لگتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ میں آئندہ وزیراعظم نہیں بننا چاہوں گا کیونکہ جس طرح ملک کے حالات ہیں اور تناؤ کی کیفیت ہے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی وزیراعظم ایسے حالات میں ڈلیور کرسکتا ہے۔

یہ بدقسمتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جس کومرضی بنا لیں معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے جب تک سول ملٹری ریلیشن شپ ہے، عدلیہ سے تعلقات، اسی طرح انٹیلی جنس اداروں کا کیا کردار ہونا چاہیے ۔جب تک ان تمام مسائل پرایک قومی مفاہمت قائم نہیں ہوتی توتب تک ایسے ہی چلے گا۔