ملک دشمن عناصر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ، شہریار آفریدی

ریاست بلاتخصیص مذہب و مسلک ہر پاکستان کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائیگی ،ایسا نظام وضع کیا جائیگا جس میں حکومتی نمائندوں اور انتظامیہ کا تمام مکاتب فکر سے مسلسل رابطہ رہے گا ، وزیر مملکت برائے داخلہ

ہفتہ ستمبر 19:48

ملک دشمن عناصر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ، شہریار ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے پنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ, ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر عمر جہانگیر , سی پی او عباس احسن , عارف عباسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان ، سینئر نائب صدر مرکزی سیرت و میلاد کمیٹی راولپنڈی فواد حسین بٹ ، بدمنیر قریشی، شہزاد حسین بٹ ،عمر ملک کے ہمراہ عاشور ہ محرم کے جلوس کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن ریاست بلاتخصیص مذہب و مسلک ہر پاکستان کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے گی اور ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں حکومتی نمائندوں اور انتظامیہ کا تمام مکاتب فکر سے مسلسل رابطہ رہے گا اور مذہبی رواداری , فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا برقرار رکھنے میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور شرکت یقینی بنائی جائے گی ․ انہو ںنے راولپنڈی میں یوم عاشور کے بہترین انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صرف قومی تہواروں اور اہم دنوں پر ہی نہیں بلکہ باقاعدگی کے ساتھ علمائے کرام سے رابطہ قائم رکھنے کے لیئے وفاقی اور صوبائی سطی کے علاوہ ڈویژن اور ضلع کی سطح پر رابطہ اجلاس منعقد کیے جائیں اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے تمام مذاہب کے ماننے والوں اور مسالک کے مابین ہم آہنگی کی فضا قائم رہے ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پنجا ب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ عاشورہ محرم کے دوران وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر جہاں صوبائی انتظامیہ اور پولیس متحرک ہے وہاں کابینہ کے اراکین بھی اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کے انتظامات اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیئے موجود ہیں ․ انہو ں نے کہا کہ امن قائم رکھنے کیلئے علمائے کرام نے بھرپور کردار ادا کیا ہے جس پر وہ تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان کے شکر گزار ہیں۔