ملک دشمن عناصر کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سازش ناکام ہوگی ، وزیرمملکت

مذہبی رواداری , فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا برقرار رکھنے میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور شرکت یقینی بنائی جائے گی،شہریار آفریدی

ہفتہ ستمبر 21:31

ملک دشمن عناصر کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سازش ناکام ہوگی ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن ریاست بلاتخصیص مذہب و مسلک ہر پاکستان کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے گی اور ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں حکومتی نمائندوں اور انتظامیہ کا تمام مکاتب فکر سے مسلسل رابطہ رہے گا اور مذہبی رواداری , فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا برقرار رکھنے میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور شرکت یقینی بنائی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نی10ویں محرم الحرام کی مناسبت سے جمعہ کے روزیوم عاشور کے مرکزی جلوس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیااس موقع پرپنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ, ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر عمر جہانگیر , سی پی او عباس احسن , عارف عباسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان , مرکزی سیرت و میلاد کمیٹی راولپنڈی کے سنیئر نائب صدر فواد حسین بٹ , بدرمنیر قریشی , شہزاد حسین بٹ , عمر ملک بھی موجود تھے شہر یار آفریدی نے راولپنڈی میں یوم عاشور کے بہترین انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صرف قومی تہواروں اور اہم دنوں پر ہی نہیں بلکہ باقاعدگی کے ساتھ علمائے کرام سے رابطہ قائم رکھنے کے لیئے وفاقی اور صوبائی سطی کے علاوہ ڈویژن اور ضلع کی سطح پر رابطہ اجلاس منعقد کیے جائیں اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے تمام مذاہب کے ماننے والوں اور مسالک کے مابین ہم آہنگی کی فضا قائم رہے ․ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پنجا ب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ عاشورہ محرم کے دوران وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر جہاں صوبائی انتظامیہ اور پولیس متحرک ہے وہاں کابینہ کے اراکین بھی اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کے انتظامات اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیئے موجود ہیں ․ انہو ں نے کہا کہ امن قائم رکھنے کے لیئے علمائے کرام نے بھرپور کردار ادا کیا ہے جس پر وہ تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان کے شکر گزار ہیں۔