خطے میں قیام امن کے لیے پاکستانی کوششوں کا بھارت نے ہمیشہ مذاق اڑایا ، سراج الحق

امریکہ نے بھارت کے اس منفی اور متکبرانہ رویے کا نوٹس لینے کی بجائے اس کی سرپرستی کی ۔ اقوا م متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے بھارت نے زبردستی اس پر قبضہ کر رکھاہے، امیر جماعت اسلامی کشمیری عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جوقربانیاں دے رہے ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی ۔حکومت پاکستان کو کھل کر کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی سرپرستی کرنی چاہیے، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی شوریٰ سے خطاب

ہفتہ ستمبر 22:56

خطے میں قیام امن کے لیے پاکستانی کوششوں کا بھارت نے ہمیشہ مذاق اڑایا ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سر اج الحق نے کہاہے کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاکستانی کوششوں کا بھارت نے ہمیشہ مذاق اڑایا اور ان کوششوں کا مثبت جواب دینے کی بجائے اسے پاکستان کی کمزوری سمجھا ۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا لیکن عالمی قوتوں ، خاص طور پر امریکہ نے بھارت کے اس منفی اور متکبرانہ رویے کا نوٹس لینے کی بجائے اس کی سرپرستی کی ۔

اقوا م متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے بھارت نے زبردستی اس پر قبضہ کر رکھاہے۔ کشمیر میں بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کر رہاہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہندوئوں کو دوسری ریاستوں سے لاکر کشمیر میں آباد کر رہاہے تاکہ کشمیر میں ہندو آبادی کے تناسب کو بڑھا کر کشمیر یوں کی تحریک آزادی کو ختم کر سکے مگر بھارت اپنے ان مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا ۔

(جاری ہے)

کشمیری عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جوقربانیاں دے رہے ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی ۔حکومت پاکستان کو کھل کر کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی سرپرستی کرنی چاہیے اور عالمی برادری کو کشمیر میں ہونے والے ظلم و جبر سے آگاہ کرنا چاہیے ۔ 27 ستمبر کو وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھیں اور بھارت کے مذاکرات سے مسلسل انکار کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا جائے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور کے اجتماع ارکان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع ارکان سے ضلعی امیر صابر حسین اعوان نے بھی خطاب کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی معاشرے سے ظلم و جبر اور استحصال کا خاتمہ کر کے پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ ہم ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں نیکی کرناآسان اور برائی کرنا مشکل ہو جائے اور عام آدمی کو تعلیم ، صحت ، روزگار اور سستا انصاف میسر ہو ۔

پی ٹی آئی حکومت نے اپنے منشور اور عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں جووعدے کیے تھے ، اب ان کی تکمیل کا وقت ہے ۔ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے ، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے اور پچاس لاکھ بے گھر افراد کو چھت مہیا کرنے کے لیے حکومت کو انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے ۔ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے اور معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے کڑے احتساب اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان محض ایک خطہ زمین نہیں ، بلکہ ایک نظریے اور جغرافیے کا نام ہے ۔ پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے والوں نے ایک ٹکڑا زمین کے لیے نہیں بلکہ اسلامی پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں ۔ حکمرانوں نے ستر سال تک پاکستان کے نظریے سے بے وفائی کی جس کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا اور پاکستان کا جغرافیہ بھی محفوظ نہیں رہ سکا ۔

حکمران پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کی حفاظت نہیں کرسکے ۔ ہمیں اپنے روشن مستقبل کے لیے اپنے تابناک ماضی سے رشتہ جوڑنا ہوگا ۔سینیٹر سراج الحق نے محرم الحرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محرم کا اصل سبق یہ ہے کہ ہر یزید کے خلاف جہاد کیا جائے ۔ یزیدیت لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی سوچ کا نام ہے تاکہ لوگوں پر اپنی حکومت قائم کر کے دولت کو سمیٹ لیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ کربلا کا میدان ایک درس گاہ ہے جس میں ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے مرنے کے گر سکھائے جاتے ہیں ۔