ہندوستان اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو گا،کشمیری اپنا پیدائشی اور بنیادی حق ، حق خودارادیت لے کر دم لیں گے،صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان

اتوار ستمبر 00:00

مظفر آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندوستان اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کبھی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ اور کشمیری اپنا پیدائشی اور بنیادی حق ، حق خودارادیت لے کر دم لیں گے۔ تارکین وطن ہمارا سرمایہ ہیں ۔ بیرسٹر عمران حسین ممبرہائوس آف کامن برطانیہ اور لارڈ قربان حسین ایم پی اور ان کے ساتھیوں کو آزادکشمیر آمد پر دل کی عمیق گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں سردار مسعود خان نے میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میںکشمیر پرمنعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس کانفرنس سے ممبران برطانوی پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین، لارڈ قربان حسین ، راجہ نجابت حسین چیئرمین جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل، وائس چانسلر میر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن اور کونسلر بیرسٹر کامران حسین نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

صدر مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر کل جماعتی پارلیمانی گروپ آف کشمیر (APPKG)کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ APPGبرطانیہ اور یورپ کریس ریسلے کی قیادت میں حالیہ دورہ بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔ اس گروپ کے ممبران مسئلہ کشمیر پر حقائق پر مبنی ایک جامع رپورٹ تیار کر رہے ہیں جو وہ برطانوی اور یورپین پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور اس رپورٹ کے مندرجات پر برطانوی اور یورپین پارلیمان میں بحث ومباحثہ ہوگا ۔

جس سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پراجاگر ہو گا۔ صدر نے بیرسٹر عمران حسین ایم پی کو کشمیر کاز کے لئے ان کی طرف سے برطانوی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جانے والی ان خدمات کو سراہا۔ صدر نے کہا کہ بیرسٹر عمران نے مسئلہ کشمیر پر انتہائی متحرک کردار ادا کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی ہائوس آف لارڈز میں ایک سال میں پانچ مرتبہ کشمیر ایشو کو اٹھانے پر لارڈ قربان حسین کا شکریہ ادا کیا۔

سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر میں بلا تاخیر حق خودارادیت کا انعقاد کرانا چاہیے۔ اور پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے قوانین کا فی الفور خاتمہ کرنا چاہیے۔ اوررپورٹ کے مطابق مجوزہ انکوئری کمیشن کے قیام پر فوراً رضامندی ظاہر کرنی چاہیے تاکہ یہ انکوائری کمیشن کشمیر کے دونوں اطراف جا کر انسانی حقوق سے متعلق حقائق جان سکے۔

صدر مسعود نے میر پور یونیورسٹی میں کشمیر کانفرنس کے کامیاب پر ڈاکٹر حبیب الرحمن کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر سوالات و جوابات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اور صدر آزادکشمیر اور ممبران پارلیمنٹ مختلف سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ بعد ازیں صدر گرامی اور ممبران برطانوی پارلیمنٹ نے میر پور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب سے بھی خطاب کیا۔

جس کی صدارت بار ایسوسی ایشن میر پور کے صدر عبدالعزیز چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔ اس تقریب میں بار ایسوسی ایشن میر پور کے وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدر مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں آزادکشمیر اور پاکستان کے تارکین وطن شروع میں معاشی و سیاسی طور پر اتنے مستحکم نہیں تھے لیکن اب ان کا برطانیہ اور یورپ کی سیاست اور معیشت میں کلیدی کردار ہے اور ان کی آواز انتہائی موثر ہے۔

صدر نے کہا کہ برطانیہ کہ گزشتہ انتخابات میں 12ممبرپارلیمنٹ پاکستان اور آزادکشمیر ریجن سے ہیں ان کا منتخب ہو جانا ہمارے لئے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔برطانیہ اور یورپین پارلیمنٹ میں قائم APPGکے موجودہ وفد کی ممبر انتھیامیکن ٹائر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ہندوستان پاکستان اور کشمیریوں کا مسئلہ نہیںبلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔

یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس ہونے جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ APPGاپنی رپورٹ کو مکمل کرتے ہوئے اسے جلد برطانوی اور یورپی پارلیمان میں پیش کرے گی ۔ جس کے بعد اس پار ڈیبیٹ ہو گا۔وکلاء کی اس خصوصی تقریب سے بیرسٹر عمران حسین ایم پی، لارڈ قربان حسین اور بار ایسوسی ایشن کے صدر عبد العزیز چوہدری نے بھی خطاب کیا۔