افغانستان کا پولیو وائرس راولپنڈی میں ہونے کا انکشاف

افغانستان سے پاکستان سفر کرنے والے افراد کے ساتھ وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ،ْ بچوں کے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ،ْ رانا محمد صفدر

اتوار ستمبر 16:10

افغانستان کا پولیو وائرس راولپنڈی میں ہونے کا انکشاف
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) افغانستان کے صوبے قندھار اور ہلمند میں پیدا ہونے والا پولیو وائرس پاکستان میں راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو کے نیشنل رابطہ کار رانا محمد صفدر نے بتایا کہ وائرس پشاور اور خیبرپختونخوا میں پایا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے پاکستان سفر کرنے والے افراد کے ساتھ وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس کے سدباب کے لیے بچوں کے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

رانا محمد صفدر کے مطابق افغانستان کی سرحد کے پاس تقریباً 14 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم سیکیورٹی خدشات کے پڑوسی ملک کے مختلف صوبوں میں پولیو مہم جاری نہیں رکھی جا سکی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے انکشاف ہوا کہ پولیو وائرس افغانستان سے پاکستان پہنچا۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں تین پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، تمام تینوں کیسز ایک ہی ضلع میں رپورٹ ہوئے۔

رانا محمد صفدر کے مطابق چوتھا پولیو وائرس کیس چارسدہ میں سامنے آیا جس میں 18 ماہ کا بچہ متاثر ہواتاہم وہ معذور نہیں ہوا کیونکہ بچے کی باقاعدہ ویکسین چل رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ 3 روزہ ویکسی نیشن پروگرام کے تحت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد 5 سال تک کی عمر کے بچے مستفید ہوں گے۔ڈاکٹر صفدر نے بتایا کہ انسداد پولیو مہم میں 6 سے 59 ماہ کے 3 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو وٹامن اے سپلیمنٹ اور او پی وی بھی دیا جائے گا جو بچوں کے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں مددگار اور خسرہ جیسے دیگر امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملک گیر مہم میں تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار اہلکار حصہ لیں گے، اس کے علاوہ 26 ہزار ایک سو 69 علاقائی انچارج، 7 ہزار 9 سو 58 یونین کونسل میڈیکل افسر اور 1 لاکھ 90 ہزار 9 سو 50 موبائل، 10 ہزار 2 سو 71 فکسڈ اور 11 ہزار 9 سو 98 ٹرانزٹ ٹیم ممبر شامل ہیں ،ْاس ضمن میں علاقے کی سطح پر مقامی ٹیموں کی معاونت کیلئے 40 ایکسپرٹ بھی شامل ہوں گے۔