پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھنے لگا ، نئی حکومت بننے کے بعدبیرونی سرمایہ کار ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرنے کیلئے پرتولنے لگے

اتوار ستمبر 16:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھنے لگا ہے اور نئی حکومت بننے کے بعدبیرونی سرمایہ کار ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرنے کیلئے پرتولنے لگے ہیں،تاہم بعض سیکٹر ایسے بھی ہیں جہاں سرمایہ کاری ختم ہونے لگی ہے جس کی بڑی وجوہات میں حکومت کی ناکام پالیسیاں بتائی جاتی ہیں،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نئی حکومت کو درپیش مسائل کی وجہ سے ملک میں براہِ راست بین الاقوامی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں 40 فیصد کمی بھی واقع ہوئی ہے لیکن بعض ممالک پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کیلئے تیاری کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چین پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے ،چین کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری برطانیہ کی ہے جس نے رواں برس جولائی اور اگست میں 3 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں برطانوی سرمایہ کاری 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔

(جاری ہے)

اسی طرح سوئٹزر لینڈ کی جانب سے جولائی اور اگست میں 3 کروڑ 24 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ امریکا نے بھی سرمایہ کاری کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان میں 2 کروڑ 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

دوسری جانب موجودہ حکومت کو تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو سرمایہ کاری میں کمی کے امکانات بتائے جارہے ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ابتدائی 2 ماہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری 28 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ برس انہی ماہ کے دوران یہ سرمایہ کاری 48 کروڑ 6 لاکھ ڈالر تھی۔

پاکستان میں ایف ڈی آئی کی کمی اور تجارتی معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کی رپورٹ کے باوجود پاکستان اور چین نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کام جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔پی ٹی آئی حکومت نے حال ہی میں سی پیک کے تحت منصوبوں کے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ ملکی معیشت میں بہتری لائی جاسکے۔چینی سرمایہ کاری کی توجہ زیادہ تر توانائی شعبوں پر ہے تاہم ابتدائی 2 ماہ کے دوران چین کی جانب سے اس شعبے میں 4 کروڑ 33 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ گزشتہ برس انہی ماہ کے دوران 18 کروڑ 98 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

گزشتہ برس توانائی کا شعبہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز رہا تاہم اس سال تعمیراتی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔اسی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ دیکھا گیا ہے کہ تعمیراتی شعبے میں 10 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 5 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

دوسری جانب آئل اور گیس سیکٹر میں گزشتہ برس 3 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال کے دوران اس میں تنزلی دیکھنے میں آئی اور یہ سرمایہ کاری رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران سرف 2 کروڑ 16 لاکھ ڈالر رہی۔آئل اور گیس سیکٹر میں ایف ڈی آئی میں واضح کمی گزشتہ حکومت کے دوران اس سیکٹر میں حکومت کی ناکام پالیسی بتائی جارہی ہے۔