شمسی توانائی پر توجہ دیے بغیر توانائی بحران حل نہیں ہو سکتا: خواجہ حبیب

اتوار ستمبر 20:01

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہاتوانائی کا بحران اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے مگر گردشی قرضے اس کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں،پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر نے کی بے شمار صلاحیت موجود ہے جس سے ابھی تک استفادہ حاصل نہیں کیا گیا لہذا حکومت شمسی توانائی پر زیادہ توجہ دے جس سے توانائی بحران کو بہتر طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک اب شمسی توانائی کی طرفہ توجہ دے رہے ہیں کیونکہ سورج سے پیدا ہونے والی بجلی ماحول دوست بھی ہے اور وقت کیساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی آ نے سے اس کی قیمت بھی کم ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال دنیا میں شمسی توانائی کے منصو بوں میں160ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں98 ہزار میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصو بے شروع کئے گئے۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پا کستان64 فیصد بجلی تیل سے پیدا کرتا ہے جو نہ صرف ماحول کیلئے نقصان ہے بلکہ اس سے ملک میں ہر سال سموگ بھی بڑھ رہا ہے، تیل سے بننے والی بجلی مہنگی بھی ہے اور کاروباری لاگت میں کئی گناہ اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے شمسی توانائی پر توجہ دی جائے۔

۔انہوں نے کہا کہ 6کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان حالات میں حکومت کو ٹیکس اصلاحات کے علاوہ بھی بہت سے مثبت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی جنگ کے لیے تیاری کرنا ہو گی ، کشکول توڑنے کے لیے قوم کو سخت فیصلے کرنا ہو ں گے، کسی ملک یا کسی مالیاتی ادارے پر انحصار کرنے کے بجائے اندرونی پیداوار میں اضافہ اور سی پیک کے تحت ملنے وا لی امداد کوبرامدات میں اضافے کیلئے استعمال کر نا ہو گا جبکہ ملکی اور غیرملکی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کر نے کیلئے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جس سے غیرملکی سرمایہ کاری بڑھے،ہنڈی کے ذریعے رقوم کی ترسیل ملکی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے اس کو روکنا ہو گا۔