سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات بھیک مانگنے نہیں ،ْ سرمایہ کاری لینے گئے تھے ‘ عمران خان

پاکستان کے لوگ کسی سپر پاور کے دبائو میں آنیوالے نہیں ،خطے سے غربت کے خاتمے کیلئے بھارت سے دوستی کی بات کا غلط مطلب لینا چاہیے نہ کمزور ی سمجھا جائے آج پاکستان پر مشکل وقت ہے ،ہم اس گردش سے نکلیں گے ،ترقی کیلئے گورننس کو ٹھیک کرنا ہوگا ،ْہم سمجھتے تھے پاکستان کے ذمہ قرضہ 30ہزار ارب ہے ،پاور سیکٹر کے 1200ارب کے گردشی قرضے ہیں ،ْبیورو کریسی کو واضح پیغام ہے آپ پیشہ وارانہ کام کریں ،ْ کوئی مداخلت نہیں ہو گی ،جب آپکو اختیار دیا جائیگا تو آپ پر ذمہ داری بھی عائد ہو گی ،ْ اداروں میں چین آف کمانڈ ہوتی ہے ، دو بیورو کریٹ اور ایک پولیس آفیسر پبلک میں چلا گیا ،واضح کر دوں آئندہ برداشت نہیں ہوگا ،ْ اگر کسی کے ایجنڈے پر کام کیا گیا تو معاف نہیں کیا جائے گا ،اپنی پارٹی کو بتا دیا ہے کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو آگاہ کرے ،ْپولیس کمزور کو طاقتور سے تحفظ دے ،میرا مقصد صرف پاکستان ہے ،ْڈپٹی کمشنرز اور افسران سے خطاب سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات کے حقائق جاننے کیلئے جے آئی ٹی بنانیکی ہدایت تمام بڑے منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائیگا،وزیر اعلی آفس میں عوام کی سہولت کیلئے شکایتی سیل قائم کرنے کی ہدایت ‘ وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس آئندہ دو ماہ میں پنجاب کے 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کا عمل مکمل کر لیا جائیگا ،ہر خاندان کو تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے کا میڈیکل کور مہیا آئیگا‘سو دن کے ایجنڈے پر مختلف شعبوں میں اب تک کی پیشرفت پر وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کی بڑی وجہ کرپشن ہے ،کرپشن کے خلاف بلاتفریق و امتیاز ایکشن لیا جائے ،کریک ڈائون میں حکومت ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘وزیر اعظم کی زیر صدارت پنجاب اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز کا اجلاس

اتوار ستمبر 21:30

اہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2018ء) وزیرا عظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھیک مانگنے نہیں بلکہ سرمایہ کاری لینے گئے تھے ، پاکستان کے لوگ کسی سپر پاور کے دبائو میں آنے والے نہیں ،اگر ہم بھارت سے دوستی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہے کہ تجارت ہو گی تو خطے سے غربت ختم ہو گی لیکن اس کا غلط مطلب لینا چاہیے اور نہ اسے کمزور ی سمجھنا چاہیے ، بیورو کریسی کو واضح پیغام ہے کہ آپ پیشہ وارانہ کام کریں آپ کے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی لیکن جب آپ کو آزادی اور اختیار دیا جائے گا تو آپ پر ذمہ داری بھی عائد ہو گی ، آپ کو ایسی سیاسی حکومت نہیں ملے گی آپ نے اس کی قدر کرنی ہے اور اسے ضائع نہ ہونے دینا ،پاکستان آج جہاں کھڑا ہے وہ بڑا مشکل دور ہے ، ریکارڈ مالی اور تجارتی خسارے کا سامنا ہے ،قوموں پر برے وقت آتے ہیں لیکن ہم اس گردش سے باہر نکلیں گے اور اس میں سول افسران کا بہت بڑا کردار ہوگا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے لاہور میں ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ میرا مقصد صرف پاکستان ہے اور یہ عمران خان کا ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ یہ پاکستان کا ایجنڈا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان کے ذمہ قرضہ 28ہزار ارب ہے لیکن وہ بھی 30ہزار ارب ہے ،پاور سیکٹر کے 1200ارب کے گردشی قرضے ہیں ،گیس کے محکمے جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوئے وہ بھی 125ارب کے مقروض ہیں ، پی آئی اے خسارے کا شکار ہے ،قرضے کی وجہ سے سٹیل مل بند پڑی ہے ،تمام حکومتی کارپوریشنز پر قرضے چڑھے ہوئے ہیں ۔

حکومت کے ذمے جو لائبیلٹیز ہیں وہ بھی ایک ہزار ارب روپے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے اور قوموں پر برے وقت آتے ہیں ۔ یہ وقت بڑا اہم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس گردش سے نکلیں گے اور اس میں آپ کا بہت بڑا کردار ہوگا ۔ دنیا میں کچھ ملک ترقی کرتے ہیں اور کچھ ملک ترقی میں پیچھے رہ جاتے ہیں جنہیںانہیں ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ملک کہا جاتا ہے ،ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں صرف گورننس کا فرق ہوتا ہے ۔

سوئٹرز لینڈ جس کے پاس کوئی وسائل نہیں لیکن وہ خوشحال ترین خطہ ہے جبکہ ہمارے شمالی علاقہ جات اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔ وہاں معیاری گورننس سے لوگوں کا معیار زندگی تبدیل ہو گیا ۔ سنگا پور ہمارے سامنے ہے جو وژن رکھنے والے لیڈر کی وجہ سے آج کہاں پہنچ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بنیادی مسئلہ گورننس کا ہے اور اس میں جو ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ آئی ہے ان کا ہاتھ ہے ۔

سیاسی مداخلت کی وجہ سے گورننس کا معیار خراب ہوا اور میرٹ کو ختم کیا گیا۔ میںنے پہلی مرتبہ رولز میں نرمی بارے سنا ہے اور یہ میرٹ کا قتل عام ہے ،جب آپ قانون ختم کرتے ہیں تو سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم میں میرٹ کی وجہ سے عالمی ادارے بھی اس کے معترف ہیں ۔ عمران خان کے کہنے پر کسی کیلئے رولز میں نرمی نہیں کی گئی ۔ میں نے کسی کو بھرتی نہیں کرایا ،پاور سٹرکچر کو کبھی بائی پاس نہیں کیا اور پورے ملک میں گورننس کو ایسے ہی ٹھیک کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ میں یہاں سے ایک آئی جی گئے جنہیں ہم نے با اختیار کیا حالانکہ اس سے پہلے اراکین اسمبلی کو سیاسی دبائو کو عادت پڑی ہوئی تھی ۔ ہم نے اپنے لوگوں کا دبائو لیا لیکن پولیس میںمداخلت کو ختم کیا ۔ ناصر خان درانی نے پانچ ہزار پولیس والوں کو کرپشن پر فارغ کیا اور سزا اور جزا کا نظام قائم کیا ۔ جب ہم نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا تو وہاںکی عوام پولیس کیلئے کھڑی ہو گئی اور وہ آئیڈیل پولیس بن گئی ۔

پولیس فورس میں پروفیشنل ازم آنے کی وجہ سے کرائم کی شرح نیچے آئی اور دہشتگردی بھی نیچے آئی ۔ وہی ماڈل پورے پاکستان کے لئے لائیں گے ،ہم نے پورے پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے اور سیاسی عدم مداخلت کو لے کر آنا ہے ۔ انہوںنے صوبائی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سیاسی حکومت آپ کو یہ موقع نہیںدے کہ آپ پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دیں اور کوئی مداخلت نہیں ہو گی ، آپ پر غلط کام کیلئے دبائو نہیں ڈالا جائے گا ، آپ نے اس کی قدر کرنی ہے اسے ضائع نہیں ہونے دینا ۔

ہم آپ کو پورا موقع دیں گے کہ آپ پیشہ وارانہ ڈیوٹی کریں اور ایسا بہت کم ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء کی بیورکریسی ہمارے سامنے ہے جسے پوری دنیا مانتی تھی لیکن یہی بیورو کریسی ہمارے سامنے نیچے گئی ہے ، ہم اسے واپس اس عروج پر لے کر جانا چاہتے ہیں ۔ ہم تبدیلی لے کر آرہے ہیں اور آپ نے ہماری مدد کرنی ہے۔ جب آپ کو اختیار دیا جائے گا تو اس کے ساتھ آپ کے اوپر ذمہ داری بھی آنی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بہت تکلیف ہوئی جب دو بیور و کریٹ اور ایک پولیس آفیسر پبلک میں چلا گیا ۔ اداروں میں چین آف کمانڈ ہوتی ہے ، اگر کسی بیور وکریٹ کو شکایت تھی تو چیف سیکرٹری کو بتایا جاتا ،اسی طرح پولیس آفیسر آئی جی پنجاب کو آگا ہ کرتا ۔ میں واضح کر دوں آئندہ برداشت نہیں ہوگا اور سخت ایکشن لیا جائے گا ۔ اگر کسی کے ایجنڈے پر کام کیا گیا تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا ۔

اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو ایکشن لیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اپنی پارٹی کو بتا دیا ہے کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو آگاہ کریں گے ہم براہ راست کوئی مداخلت نہیں کریں گے ۔ ہم نے خیبر پختوانخواہ میں یہ کر کے دکھایا ہے اور یہاں بھی کر کے دکھائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ میڈیا اور ہمارے مخالفین کہتے تھے کہ کدھر ہے نیا خیبر پختوانخواہ نظر نہیں آرہا ۔

ہم نے کام کیا لیکن اشتہارات نہیں دئیے ،ہم نے خیبر پختوانخواہ میں ڈیڑھ ارب روپے کے اشتہارات نہیں دئیے جبکہ ہمارے مخالفین نے پانچ سالوں میں 51ارب روپے کے اشتہارات دئیے ۔ خیبر پختوانخواہ جہاں ایک حکومت کو دوسری بار ووٹ نہیں ملتے ہماری پارٹی کو انتخابات میں دوگنا وووٹ ملے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ایڈ منسٹریشن اور گورننس بہتر کی ،لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لے کر آئے اس لئے لوگوں نے ہمیں ووٹ دئیے ۔

انہوںنے کہا کہ بیورو کریسی کو موقع دیں گے ان پر کوئی دبائو نہیں کہ غلط کام کریں ۔ اب تک یہ کلچر بنا ہوا تھا جس کے پاس اختیار ہوتا تھا وہ ہر کام کاہونا اپنا استحقاق سمجھتا تھا لیکن آپ پر کوئی دبائو نہیں ہوگا ۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ ہم نے نیا مائنڈ سیٹ اور نئی سوچ اپنانی ہے ، جب ہم نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں تو یہ نئی سوچ کا نام ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انگریز کے دور میں عوام اس لئے ٹیکس چوری کرتے تھے کیونکہ وہ اسے اپنی حکومت نہیں سمجھتے تھے اسی طرح کرپشن کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ گورنر ہائوس میں صرف ایک آدمی رہتا تھا جبکہ دوسری طرف آدھی آبادی خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ، بچے سکولوں سے باہر ہیں ،عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ جب ہم آزاد ہوئے تو ہمیں سادگی اختیار کرنی چاہیے تھا لیکن ہم نے وہی انگریزوں والا لائف سٹائل اپنایا ۔

ایک مغربی ملک جس کا جی ڈی پی پچاس مسلمان ممالک کے برابر ہے وہاں کے حکمران سادہ زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایک مقروض ملک کا رہن سہن دیکھ لیا جائے ۔ وزیر اعظم ہائوس میں 80گاڑیاں تھیں، 524ملازم تھے کیا کسی مقروض ملک کو ایسا گوارا دیتا ہے ۔ ایڈمنسٹریشن کا رویہ بھی عوام کے ساتھ ایسا تھا جیسے انگریز دور میں تھا ۔ نئے پاکستان کا مطلب نئی سوچ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو تحفظ دیا جائے ، تھانوں میں عام آدمی ٹھوکریں کھاتا پھرتاہے ۔ کسی ضلع میں پولیس کا سربراہ پولیس کا سردار ہوتا ہے ،آپ میرٹ پر چلیں انصاف کریں ،کھلی کچہریا ں ہوں، یہ صرف ہمارے لئے نہیںبلکہ یہ انسانیت کا تقاضہ ہے ۔ تھانوںمیں عوام دھکے کھاتے ہیں پولیس افسران اپنے دروازے عوام کے لئے کھولیں ، آپ نے کمزور کو طاقتور سے تحفظ دینا ہے ، ہم مانیٹرنگ کریں گے اور اس کیلئے نیا سسٹم لے کر آرہے ہیں ۔

وزیر اعظم ہائوس میں شکایات سیل بنا ہے اسی طرز وزیر اعلیٰ ہائوس میں شکایات سیل کے قیام کا کہا ہے ۔ حکومت نے لوگوں پر توجہ دینی ہے اور عام آدمی کی زندگی بہتر کرنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو انصاف دیا جائے ، پولیس افسران سے درخواست ہے کہ تھانوں کو خودمانیٹر کریں تاکہ عام آدمی سے ظلم اور زیادتی نہ ہو ۔ یہان تھانہ طاقتور کا ساتھ دیتا ہے اور تھانے کا غندون کے ساتھ مل جانے کا کلچر ہے ،جب ایسا ہوتا ہے تو اس معاشرے میں اللہ کی برکت نہیں آتی ، آپ نے کمزور کو تحفظ دینا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان پر ضرور مشکل وقت ہے لیکن جب گورننس ٹھیک ہو گی سب کچھ ٹیک ہو جائے گا۔ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھیک مانگنے نہیں گئے تھے بلکہ سرمایہ کاری لینے گئے تھے ۔ پاکستان جغرافیائی حیثیت سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ ہمارے ایک طرف چین کی مارکیٹ ہے ، ایک طرف ہندوستان ہے جو دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے ،بھارتی حکومت کو اپنا تکبر ختم کرنا چاہیے، ہم دوستی کرنا چاہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ تعلقات اچھے ہوجائیں تاکہ خطے میں تجارت ہو تو غربت کم ہو لیکن اسے غلط نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی اسے کمزور ی سمجھنا چاہیے ۔

پاکستان کے لوگ کسی سپرپاور کا دبائو لینے والے نہیں ، اگر کوئی دھمکیاں دیتا ہے تو یہ قوم مقابلہ کرنے کیلئے آخر تک کھڑی ہے ۔ ہم چاہتے ہیںکہ دوستی کریں یہ دونوں ممالک کے لئے ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن گورننس ٹھیک ہو گی سرمایہ کاری آئے گی ، اوور سیز کے پاس اربوں ڈالر کیش ہیں لیکن جب تک گورننس سسٹم ٹھیک نہیں سرمایہ کاری نہیں آسکتی ۔

ہم پالیسی بنا سکتے ہیں لیکن عملدرآمد آپ کریں گے ، ہم گورننس ٹھیک کر لیں تو نہ صرف ٹیک آف کر جائیں گے بلکہ کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ایک وہ وقت تھا جب دنیا میں پاکستان کی مثال دیتی تھی اور جہاں ہم جارہے تھے ہم اس سے بھی آگے نکل سکتے ہیں ۔ سنگا پور اور ملائیشیاء نے صرف گورننس کی وجہ سے ترقی کی ، ہم آپ کی مدد سے گورننس سسٹم ٹھیک کریں گے پھر دیکھیں کس طرح خوشحالی آتی ہے ۔

یہ موقع جانے نہیں دینا ۔ جس طرح ہم نے خیبر پختوانخواہ میںگورننس ٹھیک کی ہے اسی طرح پنجاب میںبھی کریں گے ،ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔ یہ میری ذات کے لئے نہیں ملک کے لئے ضرورت ہے ۔ آپ ہمیں جتنا مضبوط کرتے جائیں گے ہم آپ کو اتنا مضبوط کرتے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ افسران کا سیلری سٹرکچر ٹھیک کریں گے ،میں تسلیم کرتا ہوں کہ جتنی آپ کی تعلیم ہے آپ کی تنخواہیں اتنی نہیں لیکن یہ ملک پر برا وقت ہے اچھا وقت بھی آئے گا اور آپ جس کے حقدار ہیں وہ بھی ملے گا۔

قبل ازیںوزیر اعظم عمران خان نے سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات کے حقائق جاننے کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ تمام بڑے بڑے منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا،گزشتہ دس سالوں کی ایک ایک چیز عوام کے سامنے لائی جائے،وزراء قوم کو بتائیں ماضی کی حکومتوں نے کتنا قرضہ لیااور حاصل شدہ قرض کے سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے،تحریک انصاف نے خیبر پختوانخواہ میں عوام کی بہتری پر توجہ دی جسکا نتیجہ تھا کہ عوام نے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو منتخب کرکے اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیرا علیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار سمیت کابینہ کے اراکین اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے خیبر پختوانخواہ میں حکومتی اداروں میں سیاسی عدم مداخلت کی روایت ڈالی، صحت ، تعلیم ، پولیس میں سیاسی عدم مداخلت کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔

انہوںنے کابینہ کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج عوام آپ کی کارکردگی کو بغور دیکھ رہے ہے، انہیں آپ سے بے شمار توقعات ہیں،عوام کو آپ سے ماضی میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی گئی سیاست کی بالکل توقع نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو نئی سوچ دی، ہم نے انسانوں کی ترقی پر توجہ دی۔ سارے وزیروں کو کہتا ہوں کہ اپنے محکموں کا جائزہ لیں، قوم کو بتائیں کہ آپ کے محکمے کے کیا حالات ہیں ۔

قوم کو بتائیں کہ حکومتی ادارے کس طرح قرض میں ڈوبے پڑے ہیں۔ یہ بھی بتائیں کہ ماضی کی حکومتوں نے کتنا قرضہ لیا اور حاصل شدہ قرض کے سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے،تمام شعبوں کے حالات عوام کے سامنے رکھیں۔ عمران خان نے کہا کہ آج تک جتنی عمارتوں میں آگ لگی ہے اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں۔

وزرا ء ہفتے میں سات دن کام کریں ،وزرا ء کے لیے کوئی چھٹی نہیں، مسائل کے حل کے لیے آئوٹ آف باکس سولوشنزتجویز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی کی کریشن کو بے نقاب کرنا ہے۔ عوام کو بتائیں کہ کس طرح غریب عوام کے پیسے پر حکمران شاہانہ زندگیاں گزارتے تھے۔ انہوںنے کہا کہ تمام بڑے بڑے منصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا۔گذشتہ دس سالوں کی ایک ایک چیز عوام کے سامنے لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی زکوة کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اور زکوة اور بیت المال کی تقسیم کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی آفس میں عوام کی سہولت کے لیے شکایتی سیل قائم کیا جائے تاکہ عوام اور عوامی نمائندوں کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم کو پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سو دن کے ایجنڈے پر اب تک کی پیشرفت پر بریفننگ بھی دی گئی ۔

قبل ازیںوزیر اعظم عمران خان سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیرا علیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار اور سینئر صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے ایوان وزیر اعلیٰ میں ملاقات کی ۔ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سو دن کے ایجنڈے پر مختلف شعبوں میں اب تک کی پیش رفت پر وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ آئندہ دو ماہ میں پنجاب کے 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا ۔

اس کارڈ کی بدولت ہر خاندان کو تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے کا میڈیکل کور مہیا آئے گا اس پروگرام سے کل ساٹھ لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔سات ہزار ڈاکٹرز اور 2500 نرسوں کی بھرتی اور چالیس ہسپتالوں میں سہولتوں کی بہتری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جس سے صوبے میں صحت کی سہولتوں میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم عمران خان کو زراعت ، آبی وسائل ، مزدوروں اور ورکرز کی فلاح و بہبود ، سیاحت کے فروغ اور تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز کا اجلاس بھی ہوا ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کی بڑی وجہ کرپشن ہے۔ حکومتی محکموں میں کرپشن ، رشوت ستانی اور دیگر بدعنوانیوں کی وجہ سے آج عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اس اعتماد کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ کرپشن کے خلاف بلاتفریق و امتیاز ایکشن لیا جائے اور کرپٹ عناصر کی نشاندہی کی جائے۔

انہوںنے کہا کہ ماضی میں بعض منصوبوں کا مقصد عوام کی بہتری نہیں بلکہ کک بیکس تھے جن کی وجہ سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا گیا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ کرپشن کے خلاف کریک ڈائون میں حکومت ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن پراسیکیوشن کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کرے ۔