متحدہ اپوزیشن کا قیام،نوازشریف نےزرداری کوپیغام بھجوا دیا

راجا ظفرالحق کی قیادت میں وفد کی نیربخاری سے ملاقات، آصف زرداری کیلئے نوازشریف کا پیغام پہنچایا، اپوزیشن متحد ہوگی توضمنی الیکشن سمیت حکومت کوہرمعاملے میں ٹف ٹائم دے سکتے ہیں، سابق وزیراعظم نوازشریف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 21:33

متحدہ اپوزیشن کا قیام،نوازشریف نےزرداری کوپیغام بھجوا دیا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 ستمبر 2018ء) مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے متحدہ اپوزیشن کیلئے سابق صدرمملکت آصف زرداری سے رابطہ کرلیا، مسلم لیگ ن کے راجا ظفرالحق کی قیادت میں وفد پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری کی رہائش گاہ پہنچ گیا ہے،راجا ظفرالحق نے آصف زرداری کیلئے نوازشریف کا پیغام پہنچایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی جیل سے رہائی کے بعد مسلم لیگ ن کی سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھرفعال ہوگئی ہیں۔

نوازشریف نے قومی اسمبلی اور ہرفورم پرحکومت کوٹف ٹائم دینے کیلئے پیپلزپارٹی سے رابطے شروع کردیے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے آصف زرداری کومتحدہ اپوزیشن کے قیام کیلئے اپنا پیغام پہنچادیا ہے۔ راجا ظفرالحق کی قیادت میں وفد نوازشریف کا پیغام لے کرپیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری کی رہائشگاہ پہنچ گیا۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت کوٹف ٹائم دینے کیلئے اپوزیشن کومتحد ہونا چاہیے۔

متحد ہوکر ہی حکومت کوضمنی الیکشن اورہرمعاملے میں ٹف ٹائم دیا جاسکتا ہے۔جس پرنیئربخاری نے پارٹی قیادت تک نوازشریف کا پیغام پہنچانے کیلئے وقت مانگ لیا ہے۔نیئر بخاری نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں مشترکہ امیدواروں کیلئے صوبوں کی بنیاد پرلسٹیں مرتب کریں گے جس جماعت کا امیدوار رنراپ رہا ہوگا اسی جماعت کے امیدوار کوٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف بھی کل اسلام آباد جائیں گے جس پردونوں جماعتوں میں مزید رابطے ہوں گے۔واضح رہے اس سے قبل جب سابق وزیراعظم نوازشریف جیل میں تھے ان حالات میں ن لیگ کی سرگرمیاں بھی رکی ہوئی تھیں۔وزیراعظم کے الیکشن سمیت اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں دونوں بڑی جماعتوں میں اختلافات پائے گئے۔ ن لیگ نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا لیکن پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب میں ن لیگ کوووٹ دینے سے انکار کردیا۔ جس پردونوں جماعتوں میں مزید دوریاں بڑھ گئیں اسی طرح صدارتی الیکشن میں بھی دونوں جماعتوں نے حکومتی امیدوار کے مقابلے میں اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔