پی ٹی آئی کا جیل سےرہائی کےبعد نوازشریف سے بڑا مطالبہ

نوازشریف قوم کا پیسا واپس لے آئیں ہماری لڑائی ختم ہوجائے گی، نوازشریف سے ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 22:51

پی ٹی آئی کا جیل سےرہائی کےبعد نوازشریف سے بڑا مطالبہ
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 ستمبر 2018ء) تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے سیاسی لڑائی ختم کرنے کیلئے بڑا مطالبہ کردیا ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ قوم کا پیسا واپس لے آئیں ہماری لڑائی ختم ہوجائے گی،نوازشریف سے ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ انہوں نے آج یہاں لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کی بات کی ہے۔

بھارت میں سوچ پائی جاتی ہے کہ پاکستان کوکمزور کرکے آگے بڑھنا ہے۔ بھارت خوش فہمی میں ہے کہ وہ آگے بڑھ جائے گا اور دیگر پیچھے تو ایسا نہیں۔ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اندرونی اسکینڈلز میں پھنسا ہوا ہے۔ بھارت اپنی جنگ خود لڑے۔ اپنے اندرونی سیاسی معاملات خود دیکھے۔

(جاری ہے)

فواد چودھری نے کہا کہ نوازشریف پاناما میں پھنسے تومودی رافیل میں پھنس گئے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا سیاسی مستقبل نہیں وہ ذاتی مستقبل کیلئے دعا کریں۔ ہل میٹل اسکینڈل میں ایک باورچی کے اکاؤنٹ میں صرف 16کروڑ روپے آئے۔ وہاں سے اسی کروڑ روپیہ مریم نواز کے پاس گیا۔ یہ قوم کا پیسا واپس لے آئیں قوم کو واپس کردیں ہماری لڑائی ختم ہوجائے گی۔ نوازشریف صاحب سے ہماری ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سیاسی مارجن بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اسکینڈلزبھی کھلیں گے۔ وزیراعظم نے ایل ڈی اے سمیت جہاں جہاں آگ لگی اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مسلم لیگ ن سے جب بھی ریکارڈ مانگا گیا تو وہاں آگ لگ جاتی تھی۔ آگ لگنے کے تمام ایسے مشکوک واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی۔ فواد چودھری نے کہا کہ چاہتے ہیں ہماری حکومت عوامی نمایندوں پر مشتمل ہو۔ نیا بلدیاتی نظام فوری تبدیل کی جائے گا۔

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں غورکیا گیا ولیج کونسل بنائی جائے یا یونین کونسل کے سائزپرنظرثانی کی جائے۔ موجودہ بلدیاتی نظام آئین کی شرط پوری نہیں کرتا۔ موجودہ بلدیاتی نظام کی بنیاد ایسی ہے کہ وزراء اعلیٰ ڈکٹیٹربن جائیں۔ شہباز شریف نے ایک لاکھ 10ہزار کروڑ روپیہ خرچ کیا۔ میٹرو بسوں کو چلانے کیلئے 8 ارب روپے حکومت کو سالانہ دینا پڑتے ہیں۔