پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف حکمت عملی، نواز شریف نے زرداری سے رابطہ کر لیا

نواز شریف نے آصف زرداری کی مدد حاصل کرنے کے لیے وفد کے ذریعے پیغام بھجوادیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 10:19

پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف حکمت عملی، نواز شریف نے زرداری سے رابطہ کر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف نے اڈیالہ جیل سے باہر آنے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا باقاعدہ طور پر آغاز کردیا ہے، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عام انتخابات 2018ء میں ہونے والی ناکامی کا جائزہ لینے، ضمنی انتخاب کی مہم کے لیے حکمت عملی تیار کرنے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

اس ضمن میں نواز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ متحدہ اپوزیشن کے لئے مسلم لیگن نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کیا اور اس حوالے سے راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں ن لیگ کا ایک وفد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری سے اہم ملاقات جے لیے بھی گیا جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا پیغام پہنچایا جب کہ ضمنی انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار لانے کی بھی درخواست کی گئی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق راجہ ظفرالحق نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت موجودہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکتا ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کا ساتھ دے ۔ متحدہ اپوزیشن کے تحت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مؤثر انداز میں آواز بلند کی جا سکتی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری نے راجہ ظفر الحق کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کا موقف پارٹی قیادت تک پہنچادوں گا، پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر جواب دیا جا سکتا ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی کا جمہوریت کی مضبوطی اور تسلسل کے لیے کردار تاریخی ہے ۔ نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار لانے سے متعلق جلد آگاہ کروں گا انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کا اُمیدوار رنر اپ ہے وہی اُمیدوار ہونا چاہئیے۔اس موقع پر راجہ ظفر الحق نے کہا مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین رابطے مزید بڑھیں گے ، شہباز شریف آ ج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، نواز شریف کو بھی آپ سے ملاقات کی تفصیل دوں گا۔ واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن میں دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں حکومت کو ٹف ٹائم دیں گی۔