بغاوت کا مقدمہ، عدالت نے نواز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

عدالت نے مقدمے کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 11:20

بغاوت کا مقدمہ، عدالت نے نواز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24ستمبر 2018ء) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں۔

جب کہ عدالت نے نواز شریف کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے نواز شریف کو 8 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ نواز شریف آئندہ سماعت پر پیش ہو جائیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ لوگ افسوس کے لیے آ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے چالیسویں کے بعد کی تاریخ رکھنے کی استدعا کی ہے،تو جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ٹھیک ہے مقدمے کو 8 اکتوبر کو سن لیں گے۔

عدالت نے نواز شریف کو بھی بذریعہ جیل سپرنٹنڈنٹ طلبی کے نوٹس جاری کر رکھے ہیں جب کہ دوسری طرف شاہد خاقان عباسی لاہور ہائیکورٹ پہنچے ہیں۔عدالت نے پہلے ہی شاہد خاقان عباسی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔وکیل شاہد خاقان عباسی نصیر بھٹہ نے کہا آئندہ عدالت میں عدم پیشی نہیں ہو گی۔ تو جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ہاں جی دیکھ رہا ہوں شاہد خاقان عباسی ایک لمبے آدمی ہیں۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔واضح رہے پچھلی سماعت پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔شاہد خاقان عباسی کے خلاف وارنٹ گرفتاری عدالت میں پیش نہ ہونے پر جاری کیے گئے تھے۔لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست پر تحریری حکم جاری کیا تھا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے تحریری حکم جاری کیا۔درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیرِاعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی۔ لہٰذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اس کیس میں شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا لیکن ہو پیش نہیں ہوئے جس پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئے گئے ہیں