برازیلی صدارتی انتخابات میں امیدواروں کو ٹرمپ اور عمران خان سے تشبیہ دی جانے لگی

ماہرین بولسنارو کو ان کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ٹرمپ ، اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی وجہ سے عمران سے ملارہے ہیں،رپورٹ

پیر ستمبر 12:25

برازیلی صدارتی انتخابات میں امیدواروں کو ٹرمپ اور عمران خان سے تشبیہ ..
ریوڈی جنیرو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) برازیل کے صدارتی انتخابات اگلے ماہ ہوں گے ،ادھر ماہرین سوشل لیبرل پارٹی (پی ایس ایل) کے صدارتی امیدوار زائل بولسنارو کو ان کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ سے، اور اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی وجہ سے عمران خان سے تشبیہ دے رہے ہیں۔برازیل میں صدر اور نائب صدر، نیشنل کانگریس، ریاستوں اور فیڈرل ڈسٹرکٹ کے گورنر اور نائب گورنر، ریاستوں کی اسمبلیوں اور فیڈرل ڈسٹرکٹ کے مقننہ کے چیمبر کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔

ان میں سے سب سے اہم صدارتی عہدے کا انتخاب ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انتخابات بھی تشدد سے اچھوتے نہیں۔ ایک مہم کے دوران کچھ دن قبل ایک شخص نے سوشل لیبرل پارٹی (پی ایس ایل) کے صدارتی امیدوار زائل بولسنارو کو چاقو مار دیا۔

(جاری ہے)

وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن خود ان پر تشدد بھڑکانے اور نفرت پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو سب کو بندوق رکھنے کا حق دیں گے تاکہ لوگ اپنا دفاع کر سکیں۔

لوگ انھیں برازیل کا ٹرمپ کہتے ہیں مگر ان کی سیاست ٹرمپ سے زیادہ جارحانہ ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ افریقی نسل کے حملہ آور نے اسی قسم کی ان کی تقاریر سے متنفر ہو کر ان پر حملہ کیا ہے۔لولا دی سلوا 2003 سے 2011 تک ملک کے صدر رہے لیکن گذشتہ دو تین سالوں میں انھیں بدعنوانی کا مجرم قرار دیا گیا اور انھیں نو سال تک سزا دی گئی۔ وہ اس وقت قید میں ہیں۔

شوبھن سکسینہ نے کہاکہ رائے عامہ کے جائزے دیکھیں تو وہ نمبر ایک تھے اور آج انتخابات ہوتا تو وہ جیت جاتے کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ بغیر ثبوتوں کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ آرمی کے امیدوار ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں ہوا ہے، عمران خان کے بارے میں ایسا ہی کہا گیا کہ انھیں فوج سے تعاون حاصل تھا۔ اسی طرح بولسنارو کو دیکھا جاتا ہے۔ مگر باقی پارٹیاں کوشش کر رہی ہے جمہوریت کو مضبوط کیا جائے اور ملک کی معیشت کو بہتر بنایا جائے۔