عمران خان کا ایک ہی مسئلہ ہے، عمران خان یوٹرن کیوں لیتے ہیں؟

سینئیر سیاستدان نے عمران خان سے متعلق نیا انکشاف کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 12:29

عمران خان کا ایک ہی مسئلہ ہے، عمران خان یوٹرن کیوں لیتے ہیں؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر سیاستدان نبیل گبول نے کہا کہ میں عمران خان کو 2002ء سے جانتا ہوں، عمران خان قومی اسمبلی میں میری ساتھ والی کُرسی پر بیٹھتا تھا۔ اُس وقت بھی عمران خان یہی باتیں کرتا تھا جو آج کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔

اگر عمران خان نے کوئی فیصلہ لے لیا اور ان کے 3،4 دوستوں نے انہیں آکر کہہ دیا کہ یہ فیصلہ آپ نے غلط لیا ہے، اور ان پر دباؤ ڈالتے ہیں تو عمران خان فوری طور پر اپنا وہ فیصلہ واپس لے لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی افغانیوں اور بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینے کے معاملے پر بھی یہی ہوا ہے، کراچی میں آ کر انہوں نے اعلان کیا لیکن جب انہیں اختر مینگل کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے بیان ہی تبدیل کر لیا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بسنے والے مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر وفاقی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا جب حکومتی اتحادی اختر مینگل نے وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کی مخالفت کی اور جا کر اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ گئے۔ خیال رہےکہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے حکومتی اعلان کی کُھلے عام مخالفت کی۔

اختر مینگل کے اپوزیشن بنچوں میں بیٹھنے سے حکومت کے لیے مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے اپنے اس اعلان پر نظر ثانی شروع کر دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور سب کی تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر ٹویٹر پر بھی شدید رد عمل دیکھنے میں آیا، ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا ؟ پولیس کو ہدایات جاری کی جانی چاہئیں کہ ان سے رشوت لینے کی بجائے انہیں گرفتار ملک بدر کریں بصورت دیگر نتائج کے لیے تیار رہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ مہاجرین کو شہریت کن بنیادوں پر دیں گے؟ کیا ہم اپنی آبادی کو وہ تمام تر ضروریات دے رہے ہیں جو اب ہم نے غیر ملکی لوگوں کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔
ایک صارف نے کہا کہ پاکستان میں مقیم بنگالیوں کو شہریت دینا اور افغان مہاجرین کو شہریت دینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ عمران خان کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئیے۔

ٹویٹر صارف نے کہا کہ ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں کسی بھی غیر ملکی کو شناختی کارڈ بنوا کے ان کو پاکستان کا شہری ٹھہرانا ایک غیر قانونی عمل ہے ہم اس عمل کو ناکام بنائیں گے۔ جو یہاں رہ کر کام کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملک کے باشندے ہوں گے ہر گز نہیں ، یہ عمل ملک دشمنی ہے۔
ایک اور صارف نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں نے گذشتہ کچھ سالوں میں پیپپلز پارٹی کی کسی بات سے اتفاق کیا ہے ، میں اُمید کرتی ہوں کہ پیپلز پارٹی اس بات کی سختی سے مخالفت کرے گی۔

ایک اور صارف نے کہا کہ غیر قانونی مہاجر جس بھی ملک سے تعلق رکھتا ہو اس کو پاکستان کا شناختی کارڈ نہیں ملنا چاہئیے۔
وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے کو عملدرآمد سے قبل ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دباؤ بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک اور یوٹرن لیے جانے کا امکان ہے۔