سعودی عرب کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حقیقت یا مفروضہ؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانات میں تضاد، ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 13:12

سعودی عرب کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حقیقت یا مفروضہ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دورے کے بعد یہ بات منظر عام پر آئی کہ سعودی عرب پاکستان میں دس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا ، جس کی تصدیق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے بھی کی۔ لیکن وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے ان تمام خبروں کو مفروضہ قرار دے کر ان کی تردید کر دی۔ عرب ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، لیکن سعودی سرمایہ کاری کے حجم کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس محض ایک مفروضہ ہیں کہ سعودی عرب پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔نٹرویو کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے وفود میں ملاقات اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی، جس کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا حجم اور شعبوں کا تعین طے کرلیا جائے گا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سی پیک میں تیسرا پارٹنر بن گیا ہے۔ سعودی عرب نے پیشکش قبول کرلی جس کے تحت ریاض سی پیک کا تیسرا تزویراتی شراکت دار ہوگا۔اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے اپنے پیغام میں تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب سی پیک منصوبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، ریاض سے معاہدہ ہوگیا ہے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت میں آنے کے صرف ایک مہینے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 10 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو گیا۔ یہ صرف اور صرف عمران خان اور ان کی ٹیم کی مستعد پالیسیوں کی بدولت ممکن ہوا۔ انشاءاللٰہ پاکستان بہت جلد ان بدترین معاشی حالات سے باہر ہوگا۔
لیکن وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے ان خبروں کی تردید نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کا ایک نمائندہ کچھ کہتا ہے اور دوسرا نمائندہ اس کے مکمل برعکس بات کرتا ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ اپنے معاملات پر قابو پائے اور تمام رہنماؤں کو کسی ایک معاملے پر بیانات دینے سے رعکے بصورت دیگر حکومت تنازعات کا شکار ہو سکتی ہے۔