لاہور اورنج لائن ٹرین کا کام ادھورا چھوڑنے پر کمپنی کو جُرمانہ

اورنج لائن ٹرین منصوبے کا کام ادھورا چھوڑنے پر کمپنی پر 3 ارب روپے کا جُرمانہ عائد کر دیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 13:38

لاہور اورنج لائن ٹرین کا کام ادھورا چھوڑنے پر کمپنی کو جُرمانہ
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبے کا کام ادھورا چھوڑنے پر کمپنی پر جُرمانہ عائد کر دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں زیر تعمیر اورنج لائن ٹرین منصوبے کا کام ادھورا چھوڑنے پر مقبول کولسن کمپنی پر جُرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ مقبول کولسن کمپنی پر 3 ارب روپے کا جُرمانہ عائد کیا گیا۔ جُرمانہ وصول کرنے کا ٹاسک ایل ڈی اے کو سونپ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبہ اکتوبر 2015ء میں شروع کیا گیا، جسے 27 مہینوں میں مکمل ہونا تھا۔ لیکن تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل ہونے کی تاریخ بڑھا دی گئی جس کے بعد کہا گیا کہ اس منصوبے کی تکمیل دسمبر تک متوقع ہے۔

(جاری ہے)

اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر دن رات کام جاری ہے، سپریم کورٹ سے گرین سگنل ملنے کے بعد رُکے ہوئے حصوں اور زیر زمین ٹریک پر بھی کام ہو رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے میں تاخیر سے اس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ قبل ازیں اس منصوبے کی لاگت 165 ارب روپے تھی لیکن اب منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 217 ارب 61 کروڑتک پہنچ چکا ہے۔گذشتہ مالی سال کے دوران زرعی شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں تئیس فیصد کٹوتی کرکے رقوم میٹرو ٹرین منصوبے کو دیدی گئیں۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ نیب نے ایکشن لیتے ہوئے لاہور اورنج لائن ٹرین منصوبہ میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کی منظوری ایک اجلاس میں دی۔نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں ایل ڈی اے، نیسپاک افسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی منظوری دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افسران اور اہلکاروں پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کا الزام ہے، قومی خزانے کو 4 ارب کا نقصان پہنچایا گیا ۔