سی پیک میں سعودی عرب کی شراکت سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان نئے تجارتی روٹ کے قیام میں مدد ملے گی

سینیٹ کی قائمہ کمی-ٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سیّد کا سعودی عرب کو حکومت کی پیشکش کا خیرمقدم

پیر ستمبر 14:17

سی پیک میں سعودی عرب کی شراکت سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان نئے تجارتی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمی-ٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے چین پاکستان اقتصادی راہداری میں سعودی عرب کو تیسرے شراکت دار کے طور پر دعوت دینے کی پاکستانی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان نئے تجارتی روٹ کے قیام میں مدد ملے گی۔

گزشتہ روز بیجنگ میں ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری نہ صرف پاکستان اور چین تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے اور خطے سے باہر ممالک کے لئے ترقی اور رابطہ کاری کاایک فریم ورک ہے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب پاکستان برادراور دوست ملک ہے اور سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت سے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس اہم منصوبے میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی جو خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھاکہ اقتصادی راہداری کی تعمیر میں تیسرے شراکت دار کی شمولیت ہونی چاہیے اور اس سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پوری پاکستانی قوم اقتصادی راہداری پر متفق ہے اور دونوں ممالک میں اقتصادی راہداری کی تعمیر میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سی پیک کو طویل المعیاد منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ آگے بڑھے گا ۔ پاکستان اور اس خطے میں امن و خوشحالی کا باعث بنے گا ۔اقتصادی راہداری سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا ۔ اس راہداری سے ملک کے مختلف حصے میں پاور سٹیشنز، بڑی شاہراہیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل ہو رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نئی شاہراہوں پر اقتصادی و صنعتی بستیوں کے قیام سے روزگار کے کثیر مواقع فراہم ہوں گے اور معیشت ترقی کرے گی۔

انہوںنے کہاکہ سی پیک سے اقتصادی نمو میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جی ڈی پی کی شرح 5.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ 9 برسوں میں بلند ترین شرح ہے۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے روڈ اینڈ بیلٹ انیشی ایٹو کے تصور کے پانچ سال مکمل ہونے پر چین کو مبارک باد دی اور کہاکہ 2013ء کے آغاز سے لے کر آج تک اس منصوبے کے ضمن میں تعاون کے 150معاہدے ہوئے ہیں جن میں 106ممالک اور 29 تنظیمیں شامل ہیں۔