بھارت پاکستان دشمنی میں ساری حدیں پار کر گیا

بھارت نے گرفتار پاکستانی کسان کو پہلے اسمگلر اوراب جاسوس قرار دے دیا، بھارت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش بے نقاب ہو گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 14:06

بھارت پاکستان دشمنی میں ساری حدیں پار کر گیا
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : بھارت نے پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے دو روز قبل پاکستان کے خلاف بیان دیا جس کے بعد پاکستان نے بھی انہیں کرارا جواب دیا۔ بھارت کی جانب سے گیدڑ بھبکیاں جاری ہیں جس پر پاکستانی حکام نے انہیں زبردست جواب دے کرخاموش کروادیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے کرارا جواب ملنے پر بھارت آپے سے باہر ہو گیا اور آج صبح آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی چھوڑ دیا جس سے قریبی علاقے زیر آب آگئے تاہم اب بھارت نے ایک گرفتار کسان کو پاکستان کا جاسوس قرار دینے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے بے گناہ پاکستانی کسان صابر حسین کو زیرو پوائنٹ سے حراست میں لیا جس کے بعد پہلے اسے اسمگلر اور اب جاسوس قرار دے کر پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش رچی جو بے نقاب ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی کسان صابر حسین کی بیوی اور بھائی نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اسے رہا کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں ۔

پاکستانی حکام نے بھی صابر حسین سے ملاقات کے لئے ایک بار پھر قونصلر رسائی طلب کی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ باٹا پور لاہور کے گائوں ٹھٹھہ ڈھلواں کے 32 سالہ صابر حسین کو اپنے والد سے زیرو پوائنٹ کے پاس 2 ایکڑ زمین ملی۔ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے صابر حسین نے وہاں جانور رکھ کر کھیتی باڑی شروع کردی ۔ 5 اپریل 2018ء کی رات وہ اپنی زمینوں پر تھا کہ اسے بارڈر پر روشنی نظر آئی اور وہاں موجود بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے صابر حسین کو جھانسہ دےکر کہا کہ یہ ایک لاوارث لاش پڑی ہے اسے آکر دیکھ لو کہ اگر یہ تمہارا جاننے والا ہے تو اسے اُٹھا لو یہ 2 دن سے ادھر پڑی ہے جس پر صابر حسین نے کہا کہ اس لاش کی شناخت کرنا یا نہ کرنا پاکستانی رینجرز کا کام ہے ، لہٰذا رینجرز سے رابطہ کریں ، میں کس حیثیت سے اس لاش کی شناخت کروں؟ جس پر بھارتی اہلکاروں نے کہا کہ اس وقت رینجرز کو نہیں بلایا جاسکتا انہیں بلانے کے لئے پروٹوکول ہوتا ہے۔

جبکہ یہ لاش بارڈر کے اُوپر ہے اس لئے ہمیں بھگوان کی قسم ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے جس پر جیسے ہی صابر حسین آگے بڑھا ۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ صابر حسین کے آگے بڑھتے ہی بھارتی اہلکاروں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تم پاکستانی اسمگلر ہو اور یہ مرنے والا رشید بھی تمہارا ساتھی تھا۔ بعد ازاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل بھارتی سکیورٹی فورسز جے ایس اوبرائے نے باقاعدہ موقف اختیار کیا کہ صابر حسین پاکستانی اسمگلر ہے ۔

بھارتی پولیس نے صابر کو بھاری اسلحہ سمیت گرفتار کیا ہے اوراس کے بڑے بڑے ؂سمگلروں سے تعلقات ہیں۔جس پر صابر حسین کے خلاف امرتسر تھانے میں ایک ایف آئی آرنمبر18درج کروائی گئی اور پولیس کے حوالے کردیا گیا۔بھارتی پولیس نے بھی پہلے سے تیار منصوبے کے مطابق اپنی مرضی کی تفتیش کرنے کے بعد اسے امرتسر سنٹرل جیل منتقل کر دیا۔ بھارتی پولیس نے مقامی عدالت سے صابر کا مزید ریمانڈ لینے کے لیے مؤقف اختیار کیا کہ صابر حسین کے جاسوس ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔ اس لیے پولیس کو مزید تفتیش درکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد پاکستانی حکام نے قونصلر رسائی کے تحت 25 مئی 2018ء کوصابر حسین سے ملاقات بھی کی تھی۔